چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت عدالت نے واضح حکم دیا کہ بیرسٹر سلمان صفدر جیل جا کر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کریں اور ان کی صحت، حالتِ زار اور جیل میں دستیاب سہولیات سے متعلق ایک جامع اور تفصیلی تحریری رپورٹ عدالت میں جمع کروائیں۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ملاقات کے دوران کسی بھی سطح پر بیرسٹر سلمان صفدر کو رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ چیف جسٹس نے سلمان صفدر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملاقات کے دوران یا اس سے قبل کسی قسم کا مسئلہ درپیش ہو تو وہ بلاجھجک براہِ راست عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

جیل حکام سے بھی رپورٹ طلب

عدالت نے بانی پی ٹی آئی سے متعلق سپرنٹنڈنٹ جیل سے بھی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سلمان صفدر ملاقات کے بعد اگلے روز رپورٹ پیش کریں گے، جس کا جائزہ لینے کے بعد عدالت آئندہ سماعت پر مزید احکامات جاری کرے گی۔ بعد ازاں کیس کی سماعت 12 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔

اٹارنی جنرل کی رپورٹ پیش

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: بانی پی ٹی آئی سے متعلق 13 مقدمات کی سماعت آج، اہم اپیلیں مقرر

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت میں 5 اگست سے 18 اگست 2023 کے عرصے پر مشتمل رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ یہ رپورٹ بانی پی ٹی آئی کے اٹک جیل میں قید کے دوران کی ہے۔ رپورٹ میں قید کے دوران فراہم کی گئی سہولیات اور دیگر امور کا ذکر کیا گیا۔

وکلاء کی ملاقات پر اعتراض

اس موقع پر سینئر وکیل لطیف کھوسہ بھی روسٹرم پر آئے اور مؤقف اختیار کیا کہ انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جس سے قانونی معاملات متاثر ہو رہے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس حوالے سے واضح حکم جاری کر چکی ہے اور آج ہی بیرسٹر سلمان صفدر ملاقات کے لیے جائیں گے۔

آئندہ لائحہ عمل

عدالت نے قرار دیا کہ سلمان صفدر کی رپورٹ اور جیل حکام کی فراہم کردہ معلومات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد آئندہ سماعت پر مزید قانونی پہلوؤں کا تعین کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر مزید احکامات بھی جاری کیے جا سکتے ہیں۔

واضع رہے کہ یہ پیش رفت بانی پی ٹی آئی کے قانونی معاملات اور جیل میں سہولیات سے متعلق ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے، جس پر سیاسی اور قانونی حلقوں کی گہری نظر ہے۔