پنجاب اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں پنجاب ریگولرائزیشن آف سروس (تنسیخ) بل 2025 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا ہے۔
بل کے مطابق سروس ریگولرائزیشن ایکٹ 2018 کو منسوخ کیا جائے گا اور اب نئے ملازمین کو بنیادی تنخواہ کے ڈھانچے کے تحت بھرتی کرنے کا نظام ختم کر دیا جائے گا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق بنیادی پے اسکیل کے تحت بھرتیوں سے خزانے پر پینشن کی مد میں زیادہ بوجھ پڑتا تھا۔اسی وجہ سے نئی بھرتیوں کو لم سم پے پیکج پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق الاؤنسز شامل ہونے کے باعث بھی بنیادی پے اسکیل کا نظام مالی لحاظ سے بھاری ثابت ہوتا تھا، اس لیے اب صرف لم سم تنخواہ ہی ادا کی جائے گی۔
نئی قانون سازی جلد متوقع ہے، جس کے بعد صوبہ پنجاب میں تمام نئی بھرتیاں لم سم پیکج پر ہوں گی۔
یہ فیصلہ سرکاری ملازمت کے خواہشمند افراد کے لیے ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ لم سم تنخواہ میں نہ مستقل اسکیل ہوتا ہے ، نہ ہی پینشن اور نہ ہی دیگر مالی فوائد شامل ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قوم آج وہی فصل کاٹ رہی ہے جو برسوں پہلےفیض حمید اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے بوئی تھی، خواجہ آصف
دوسری جانب پنجاب اسمبلی نے اسی اجلاس میں ڈرگز (دوسری ترمیم) بل 2025 بھی منظور کر لیا ہے۔
اس ترمیم کے تحت تھیراپیوٹک گُڈز (ادویات و طبی آلات) کو باضابطہ طور پر ڈرگز ایکٹ 1976 کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
بل کے سیکشن تھری میں ترمیم کے بعد تھیراپیوٹک گُڈز کی تعریف، تقسیم، ذخیرہ اور ریگولیشن کو ڈرگز کے دائرہ کار میں شامل کر دیا گیا ہے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق اس ترمیم کا مقصد ادویات اور طبی آلات کے لیے ایک جامع ریگولیٹری میکنزم قائم کرنا اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔
دونوں بلوں کی حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے۔






