کراچی آمد پر گورنر سندھ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ چھوٹی باتیں چلتی رہتی ہیں جو وقت کے ساتھ حل ہوجاتی ہیں، ہم اچھے طریقے سے ٹیک آف کرچکے ہیں، اب ملک کو آگے لے کر چلنا ہے، ملک کی بہتری کے لیے سب کو متحد ہونا ہوگا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کا ملک کی بہتری میں اہم کردار ہے، جب کہ سوشل میڈیا پر یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ وفاقی حکومت کسی مذہبی فرقے کو ٹارگٹ کررہی ہے، جو بالکل غلط ہے۔
محسن نقوی نے واضح کیا کہ کسی بھی شدت پسند گروہ کو برداشت نہیں کیا جائے گا، پنجاب حکومت تحریک لبیک پاکستان کے معاملے کو دیکھ رہی ہے، فنڈ ریزنگ کرنے والوں کے ساتھ کیا ہوگا، چند روز میں سب کے سامنے آجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیز فائر ہوچکا ہے، ملکی سالمیت کی کسی بھی خلاف ورزی پر ردعمل شدید ہوگا۔
اس کے علاوہ وفاقی وزیر داخلہ مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان کی رہائش گاہ پہنچے، جہاں ان کی سربراہی میں ممتاز علمائے اہل سنت سے ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ بھی ہمراہ تھے۔
ملاقات میں حالیہ واقعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی، علمائے کرام نے مختلف مسائل پر اپنے مؤقف سے وزیر داخلہ کو آگاہ کیا۔ محسن نقوی نے تمام جائز مسائل کے حل کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ مدارس و مساجد کے امور میں حکومت کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔
مزید پڑھیں: حکام نے مذہبی جماعت کے رو پوش سربراہ کا سراغ کیسے لگایا؟
محسن نقوی نے بتایا کہ فریقین کے درمیان رابطے کے لیے ایک فوکل پرسن ہر وقت موجود رہے گا۔ ملاقات میں جلد اسلام آباد میں ایک تفصیلی نشست کے اہتمام پر بھی اتفاق کیا گیا۔
ملاقات میں علامہ سید مظفر شاہ، مفتی عابد مبارک، علامہ لیاقت حسین اظہری، علامہ ریحان اظہر نعمانی، مفتی رفیع الرحمن نورانی، علامہ اشرف گورمانی اور علامہ احمد ربانی سمیت دیگر علمائے کرام شریک ہوئے۔







