نجی نشریاتی اداروں كے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطاءاللہ تارڑ كا كہنا تھا کہ جنیوا میں پیش آنے والے واقعات افسوسناک ہیں اور پاکستان کے خلاف کیا جانے والا پراپیگنڈا کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا، کوئی بھی سیاسی جماعت یا رہنما پاکستان سے بڑا نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے عارف اجاکیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلسل پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے، جب کہ زلفی بخاری کی اس کے ساتھ ملاقات کی ویڈیو کو محض اتفاق قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ملک کے خلاف منظم مہم چلا رہی ہے اور اس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کبھی اسرائیل کی مذمت نہیں دیکھی گئی، جو قابلِ افسوس ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کو نائیکوپ کے ذریعے پاکستان آنے کی دعوت دی گئی تھی، تاہم انہوں نے اس کے بجائے دیگر ذرائع اختیار کیے۔

ان كا كہنا تھا كہ پی ٹی آئی نے اپنے دورِ حکومت میں ملک کو ڈیفالٹ کے قریب پہنچایا اور یہاں تک دعائیں کیں کہ پاکستان ڈیفالٹ کر جائے، حالانکہ ایسا ہونے کی صورت میں پورے ملک کو نقصان ہوتا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی جی ایس پی پلس اسٹیٹس کو بھی خطرے میں ڈال کر ملکی برآمدات کو نقصان پہنچانا چاہتی تھی۔

دوسری جانب صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے دونوں بیٹے امریکا میں اسرائیلی لابی سے ملے اور پاکستان کے جی ایس پی اسٹیٹس کو متنازع بنانے کی کوشش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض عناصر خود کو پاکستان سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں اور یہ اقدام ملک کے خلاف ایک اور سنگین قدم ہے۔

ادھر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے غیر سیاسی ہیں اور انہیں اپنے والد کے حق میں آواز اٹھانے کا پورا حق حاصل ہے۔

انہوں نے وفاقی وزیر اطلاعات کے بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بانی کے بچوں نے کبھی بھی جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔