انہوں نے ان خیالات کا اظہار جامعہ پنجاب میں اسلامی جمعیت طلبہ کے زیرِ اہتمام منعقدہ افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس میں طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
صاحبزادہ وسیم حیدر کا کہنا تھا کہ طلبہ کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جب کہ طلبہ یونین پر پابندی کے باعث طلبہ کا ایک بنیادی حق بھی سلب کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر تعلیمی اداروں کو مقتل گاہوں اور تشدد کے مراکز میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر کی طلبہ برادری کو متحد کر کے اس کے خلاف بھرپور تحریک چلائی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ طلبہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکلنے پر بھی مجبور ہو سکتے ہیں۔
ناظمِ اعلیٰ نے غلام خان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی صوابی اور انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور، کیمپس کالا شاہ کاکو میں طلبہ کی اموات کو انتظامیہ کی غفلت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان واقعات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان مایوسی اور مختلف مسائل کا شکار ہیں۔ تعلیمی اداروں میں اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے طلبہ کو ہراساں کیا جاتا ہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ طلبہ کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے آزادیٔ اظہارِ رائے پر قدغن لگائی جاتی ہے اور طلبہ کی آواز دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلامی جمعیت طلبہ ہمیشہ طلبہ کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی طلبہ کے جائز حقوق کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
اس موقع پر حزیفہ عثمان (ناظم جنوبی پنجاب)، عبداللہ بن عباس (ناظم لاہور) اور احسن فرید (ناظم پنجاب) بھی موجود تھے۔






