ایبٹ آباد کرکٹ اسٹیڈیم میں پشاور نے 115.2 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 503 رنز بنا کر پہلی اننگز ڈکلیئر کردی۔ محمد رضوان نے 252 گیندوں پر 200 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی، جس میں 35 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ نجاب خان نے 226 گیندوں پر 133 رنز بنائے۔ دونوں بیٹرز نے چوتھی وکٹ کے لیے 179 رنز کی شراکت قائم کی۔
جواب میں فیصل آباد نے دوسرے دن کے اختتام تک 35.2 اوورز میں 2 وکٹوں کے نقصان پر 118 رنز بنالیے۔ محمد عدنان نے فہام الحق اور سمیر ثاقب کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا، جبکہ عاصم علی ناصر 35 اور عتیق الرحمٰن 24 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔
ڈائمنڈ کرکٹ گراؤنڈ میں فاٹا نے اپنی پہلی اننگز 362 رنز پر مکمل کی۔ ڈیبیو کرنے والے فواد ارشد نے 190 گیندوں پر 115 رنز بنا کر فرسٹ کلاس کرکٹ میں پہلی سنچری اسکور کی۔ لاہور وائٹس کے نوجوان فاسٹ بولر حماد عزیز نے 97 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں۔
جواب میں لاہور وائٹس کی ٹیم 234 رنز پر آؤٹ ہوگئی، جس کے نتیجے میں فاٹا کو 128 رنز کی برتری حاصل ہوئی۔ عامر جمال نے 74 اور علی زریاب نے 51 رنز بنائے۔ شاہین شاہ آفریدی اور آفاق آفریدی نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں۔ آفاق آفریدی نے بابر اعظم کو 28 رنز پر آؤٹ کیا۔ دن کے اختتام پر فاٹا نے دوسری اننگز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 22 رنز بنالیے تھے۔
راولپنڈی کے شعیب اختر کرکٹ اسٹیڈیم میں ملتان نے اسلام آباد کے پہلی اننگز کے 215 رنز کے جواب میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 249 رنز بنالیے۔ ملتان کی ٹیم ایک موقع پر 88 رنز پر 5 وکٹیں گنوا چکی تھی، تاہم عمران رفیق نے 93 اور شارون سراج نے 82 رنز بنا کر نمایاں کارکردگی دکھائی۔ اسلام آباد کے موسیٰ خان نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔
نیشنل گراؤنڈ اسلام آباد میں کراچی بلیوز نے سیالکوٹ بلیوز کے خلاف پہلی اننگز میں 280 رنز بنائے اور 39 رنز کی برتری حاصل کی۔ محمد غازی غوری نے 88 رنز کی اننگز کھیلی، جب کہ سیالکوٹ کے اطہر محمود نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔ جواب میں سیالکوٹ نے دوسرے دن کے اختتام تک بغیر کسی نقصان کے 13 رنز بنالیے تھے۔







