اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جانب سے دائر متفرق درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے دلائل دیے۔

سماعت کے دوران بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ وہ دوبارہ عدالت کے سامنے پیش ہونے پر معذرت خواہ ہیں، تاہم اپیلوں پر آفس کی جانب سے کچھ اعتراضات لگائے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا کا فیصلہ 20 دسمبر کو سنایا گیا تھا جبکہ اس کے خلاف اپیلیں 29 دسمبر کو دائر کر دی گئی تھیں۔

وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ اپیلیں دائر کرتے وقت فیصلے کی مصدقہ نقل بھی ساتھ جمع کرائی گئی تھی اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ آفس کی جانب سے لگائے گئے اعتراضات کے بارے میں انہیں بروقت آگاہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے سزا معطلی کی درخواست دائر کی تو 14 فروری کو بتایا گیا کہ اپیلوں پر آفس اعتراضات موجود ہیں،قانونی اصول کے مطابق اگر اپیل ایک مرتبہ دائر ہو جائے تو اسے بروقت دائر شدہ ہی تصور کیا جاتا ہے اور اس حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی موجود ہے۔

اس موقع پر جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 21 اور 22 سال کی وکالت کے بعد یہ صورتحال مناسب نہیں، جب وکیل اپنی فائل چھوڑ دیتا ہے تو پھر ایسے مسائل سامنے آتے ہیں۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف سے حافظ نعیم الرحمن کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو

عدالت نے دوران سماعت آفس اعتراضات کو بلند آواز میں پڑھنے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ آفس نے یہ اعتراض بھی لگایا ہے کہ مقررہ وقت کے اندر اعتراضات دور نہیں کیے گئے، تاہم ان کے بقول انہیں ان اعتراضات کے بارے میں بروقت آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے وکیل کو متفرق درخواست پڑھنے کی ہدایت بھی کی۔ اس موقع پر بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ وہ سزا معطلی کی درخواست کے ساتھ عدالت کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو آفس اعتراضات ہیں وہ متفرق درخواست کا حصہ نہیں بنتے اور اس حوالے سے الگ قانونی طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا۔

بعد ازاں عدالت نے ہدایت جاری کی کہ بروقت اپیلیں دائر نہ ہونے کے آفس اعتراض کو ختم کرانے کے لیے باقاعدہ درخواست دائر کی جائے تاکہ معاملے کو قانون کے مطابق آگے بڑھایا جا سکے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی ہدایات کے بعد اب اپیلوں پر لگائے گئے آفس اعتراضات کو ختم کرنے کے لیے مزید قانونی کارروائی کی جائے گی جس کے بعد کیس کی باقاعدہ سماعت آگے بڑھ سکے گی۔