کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے روسی خبر ایجنسیوں سے گفتگو میں کہا کہ ہمیں امید ہے صدر ٹرمپ کو روس کے حالیہ تجربات سے متعلق درست طور پر بریف کیا گیا ہوگا کیونکہ یہ تجربات کسی بھی طور پر ایٹمی دھماکے نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ روس نے 1990 کے بعد سے کوئی تصدیق شدہ ایٹمی تجربہ نہیں کیا، لیکن اگر کوئی ملک عالمی پابندی توڑ کر ایٹمی تجربات شروع کرتا ہے تو روس بھی اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا تھا کہ دیگر ممالک کے تجرباتی پروگراموں کے جواب میں میں نے محکمہ دفاع کو ہدایت کی ہے کہ امریکا بھی اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات فوری طور پر شروع کرے۔

واضح رہے کہ ٹرمپ کے اس اعلان سے قبل روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اعلان کیا تھا کہ روس نے ایک ایٹمی توانائی سے چلنے والے ڈرون اور ایٹمی صلاحیت کے حامل میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے، تاہم ان تجربات میں کسی قسم کا دھماکہ شامل نہیں تھا۔

کریملن حکام کے مطابق اگر امریکا نے ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات دوبارہ شروع کیے تو روس بھی ایسا ہی کرے گا، جس سے نئی ایٹمی دوڑ کے خدشات نے جنم لے لیا ہے۔

پیوٹن کے مطابق حال ہی میں روس نے پوسائیڈن نیوکلیئر پاورڈ آبدوز ٹارپیڈو کا کامیاب تجربہ کیا، جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار "تابکار سونامی" پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو ساحلی شہروں کو ناقابلِ رہائش بنا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کی جنوبی کوریا کو جوہری آبدوز بنانے کی اجازت؛  امریکا دوبارہ جوہری ہتھیاروں کے تجربات شروع کرے گا 

اسی ہفتے پیوٹن نے ایک ایٹمی لانچ ڈرل کی قیادت بھی کی تھی اور اعلان کیا تھا کہ روس نے بیوریویستنک نیوکلیئر کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے، ایسا ہتھیار جس کے بارے میں ماسکو کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی بھی دفاعی نظام کو ناکارہ بنا سکتا ہے۔

عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں طاقتور ممالک نے ایٹمی تجربات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا تو دنیا ایک نئی ایٹمی سرد جنگ کی دہلیز پر پہنچ سکتی ہے۔