عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن سمٹ کے موقع پر جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات سے قبل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بیان جاری کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ ایٹمی ہتھیار موجود ہیں، لیکن چین آئندہ پانچ برسوں میں اس سطح کے قریب پہنچ جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ دیگر ممالک کے ایٹمی تجربات کے جواب میں کیا گیا ہے، میں نے محکمہ جنگ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہمارے جوہری ہتھیاروں کے تجربات برابر سطح پر شروع کرے، یہ عمل فوری طور پر شروع کیا جائے گا۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کا اشارہ جوہری ہتھیاروں کے میزائل ٹیسٹ کی جانب تھا یا جوہری دھماکوں کی جانب، جن کی ذمہ داری نیشنل نیوکلیئر سیفٹی ایڈمنسٹریشن پر ہوتی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے جنوبی کوریا کو اپنی جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوز بنانے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ آبدوز جنوبی کوریا کے پرانے ڈیزل انجن والے نظام کی جگہ لے گی اور زیادہ تیز و جدید ہوگی۔ یہ آبدوز امریکی شہر فلاڈیلفیا میں بنائی جائے گی جہاں جنوبی کوریا کی کمپنی ہانوا گروپ کا شپ یارڈ موجود ہے۔
اس فیصلے کے بعد جنوبی کوریا ان ممالک کی محدود فہرست میں شامل ہو جائے گا جن کے پاس جوہری آبدوزیں ہیں، جن میں امریکا، چین، روس، برطانیہ، فرانس اور انڈیا شامل ہیں۔
ٹرمپ اور جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کے درمیان ملاقات کے دوران سیول نے امریکا سے درخواست کی کہ وہ ایٹمی توانائی کے معاہدے میں نرمی کرے تاکہ جنوبی کوریا کو یورینیم افزودگی اور ایندھن کی فراہمی میں زیادہ خودمختاری حاصل ہو۔
صدر لی نے واضح کیا کہ ان کا مقصد جوہری ہتھیار بنانا نہیں بلکہ اپنی دفاعی صلاحیت کے لیے آبدوزوں کا ایندھن تیار کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمیں ایندھن کی فراہمی کی اجازت مل جائے تو ہم اپنی ٹیکنالوجی سے چند جوہری آبدوزیں بنا کر جزیرہ نما کوریا کے پانیوں کا بہتر دفاع کر سکتے ہیں اور امریکی افواج پر بوجھ کم ہو گا۔
واضح رہے کہ امریکا نے ماضی میں صرف برطانیہ کے ساتھ 1950 کی دہائی میں جوہری آبدوز ٹیکنالوجی کا اشتراک کیا تھا، لہٰذا یہ قدم خطے میں ایک بڑی اسٹریٹیجک تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی ماہرین کے مطابق چین نے حالیہ برسوں میں اپنے ایٹمی وار ہیڈز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ کیا ہے جو اب تقریباً 600 تک پہنچ چکی ہے، جب کہ امریکی محکمہ دفاع کے اندازے کے مطابق 2030 تک چین کے پاس ایک ہزار سے زائد ایٹمی ہتھیار ہوں گے۔
ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق امریکی ادارے سنٹر فار آرمز کنٹرول اینڈ نان پرو لیفریشن کے مطابق روس کے پاس اس وقت 5,459 ایٹمی وار ہیڈز ہیں، جن میں سے 1,600 فعال ہیں، جب کہ امریکا کے پاس 5,550 وار ہیڈز ہیں، جن میں سے 3,800 فعال ہیں۔
یاد رہے کہ امریکا نے آخری بار 1992 میں ایٹمی دھماکہ کیا تھا، جب کہ سابق امریکی صدر جارج ایچ ڈبلیو بش نے 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ایٹمی تجربات پر پابندی عائد کی تھی۔ 1996 کے بعد سے صرف تین ممالک انڈیا، پاکستان اور شمالی کوریا نے جوہری دھماکے کیے ہیں۔







