وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملک کا شیرازہ بکھیرنے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ آگ اور پانی کا کھیل اب مزید نہیں چل سکتا۔ملک کے امن کے لیے دہشتگردی کے خلاف ٹھوس فیصلے کرنے کا وقت آگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کس طریقے سے ان دہشتگردوں کو تحفظ دیا جاتا ہےاور پھر ہمسایہ ملک سے آکر یہ خوارج یہاں دہشتگردی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ہمارے جوان ملک کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں ہم شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔

وزیرِاعظم پاکستان نے کہا کہ ایک طرف ہم معاشی میدان میں دن رات آگے بڑھنے کے لیے کاوشیں کررہے ہیں، سفارتی میدان میں کامیابیاں حاصل کررہے ہیں۔ انڈیا کے خلاف معرکہ حق میں شاندار کامیابی حاصل کی، اللہ تعالی نے پاکستان کو عزت بخشی اور افواجِ پاکستان کی شاندار کارکردگی کی بدولت ملکِ پاکستان کو دنیا کے نقشے میں کامیابی ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں، افواجِ پاکستان اور پارلیمنٹ کا ایک ہے مؤقف ہے کہ غزہ میں فی الفور جنگ بندی اور فلسطین کی عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دیا جائے، اس مؤقف پر گزشتہ 77 سالوں سے کوئی تبدیلی نہیں آئی اور ہم بھی اسی مؤقف کو لے کر آگے بڑھے ہیں۔

مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ نے عالمی امن کے لیے غیر متزلزل عزم دکھایا، وزیراعظم کا غزہ معاہدے کا خیر مقدم

شہباز شریف نے کہا کل اورکزائی میں شہید ہونے والے جوانوں کے جنازے میں شرکت کی، میجر سبطین شہید کے والدین نے بیٹے کی وطن کے لیے قربانی پر کہا ہے کہ انہیں فخر ہے، افسوس ہے کہ دوست نما دشمن دہشتگردوں کو تحفظ دے رہے ہیں۔