اُن پر مقدمہ  مذہبی بنیادوں پر عوام کو اُکسانے، بدامنی اور نفرت پھیلانے اور افواجِ پاکستان کے اہلکاروں کو بغاوت پر آمادہ کرنے جیسے سنگین الزامات کے تحت درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر سرکاری مدعیت میں درج کی گئی ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ سیمابیہ طاہر نے اپنی تقریر کے دوران تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے مریدکے میں ہونے والے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے ایک ایسی جماعت کی حوصلہ افزائی کی جو ماضی میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث رہی ہے۔ 

ایف آئی آر کے مطابق ان کے الفاظ سے خوف و دہشت پھیلانے اور مذہبی بنیادوں پر اشتعال انگیزی کے خطرناک جرائم کا ارتکاب ہوا۔

تفصیلات کے مطابق 14 اکتوبر کو راولپنڈی کی اڈیالہ روڈ پر پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان نے عوامی اسمبلی کے نام سے ایک اجتماع منعقد کیا، جہاں سیمابیہ طاہر نے خطاب کرتے ہوئے ریاستی اداروں، بالخصوص افواجِ پاکستان، پولیس اور رینجرز کے کردار پر سخت تنقید کی۔

اجتماع سے خطاب کرنے کے دوران سیمابیہ طاہر نے کہا کہ جس طرح آپ نے ہمارے ملک میں لوگوں پر ظلم و ستم کیے ہیں جس طرح اُن کی لاشوں پر آپ کے فوجیوں نے، آپ کی پولیس نے اور آپ کے رینجرز اہلکاروں نے بوٹ رکھ کر بے حرمتی کی ہے۔ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔

آپ نے آج دن تک پاکستان کے لیے کچھ نہیں کیا، آپ نے 17 جون کو 25 مئی کو 26 نومبر کو اور پھر پرسوں (پیر کے روز) گولی کیوں چلائی۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ان کی تقریر کا متن انتہائی حساس اور اشتعال انگیز تھا، جس میں مذہبی جذبات کو استعمال کرتے ہوئے عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔

پولیس کے مطابق سیمابیہ طاہر کے بیان سے مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر نفرت کو فروغ ملا، جس کے باعث سیکیورٹی اداروں کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ سابق رکن اسمبلی نے افواجِ پاکستان کے جوانوں کو ریاست سے وفاداری ترک کرنے پر اُکسایا اور اداروں کے افسران و اہلکاروں کی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا۔

پولیس نے مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات شامل کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔