ڈان اخبار کے مطابق فہرست میں ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی، ان کے بھائی انس رضوی اور 21 دیگر سینیئر عہدیدار شامل ہیں جو لاہور، شیخوپورہ اور دیگر اضلاع میں درج متعدد مقدمات میں مطلوب ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور دیگر صوبائی و قومی اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ مخصوص چیک پوسٹوں، سرحدی گزرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر نگرانی سخت کی جائے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ سعد رضوی اور ان کے بھائی کراچی میں اپنے حمایتی نیٹ ورک کی مدد سے قانونی کارروائی سے بچنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

پنجاب کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ یہ نام صوبائی حکومت کی سفارش پر وفاق کو بھیجے گئے کیونکہ یہ افراد 100 سے زائد ایف آئی آرز میں نامزد ہیں، جن میں تقریباً 80 ایسے مقدمات شامل ہیں جن میں دہشت گردی اور سنگین نوعیت کے الزامات ہیں۔

290 میں سے 23 افراد کو سینئر رہنما قرار دیا گیا ہے جو مالیات اور احتجاجی منصوبہ بندی میں براہِ راست ملوث ہیں۔ مالی معاونین کے ریکارڈ کی تیاری جیو فینسنگ، بینک اکاؤنٹس اور دیگر ذرائع سے ہونے والی رقم کی منتقلی کے تجزیے سے کی گئی۔

ذرائع کے مطابق جن افراد کو مالی معاون قرار دیا گیا ہے ان کے نام متعلقہ پولیس افسران کو فراہم کر دیے گئے ہیں تاکہ انہیں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کی کارروائی شروع کی جا سکے۔

ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 2020 اور 2021 کے دوران ٹی ایل پی کے احتجاج کے وقت قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملوں کے مقدمات کی ازسرِ نو تحقیقات کی جائیں گی۔ ماضی کے ملزمان کی شناخت کر کے انہیں 2025 کے حالیہ فسادات کے مقدمات سے منسلک کیا جائے گا۔

اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ پنجاب میں مسیحی اور احمدی عبادت گاہوں پر ہونے والے پرانے حملوں کے مقدمات کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا جن میں ٹی ایل پی کے ملوث ہونے کے شواہد ملے تھے۔

پنجاب پولیس کی کمان نے سابق ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور عمران کشور کو تحقیقات کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی ہے۔ انہیں کرائم سین، فنگر پرنٹس، ڈی این اے ٹیسٹنگ، جیو فینسنگ اور کال ڈیٹا تجزیے سمیت دیگر فارنزک امور کی نگرانی کا ٹاسک دیا گیا ہے۔

ادھر پنجاب حکومت نے معتدل سنی علما کے ایک گروپ سے معاہدہ کر لیا ہے جس کے تحت ٹی ایل پی کے زیرِ انتظام 300 مساجد اور 125 مدارس کا انتظام ان علما کے سپرد کیا جائے گا۔

ساہیوال میں 12 ٹی ایل پی کارکنوں کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کر دیے گئے ہیں جن کا باضابطہ نوٹیفکیشن ڈپٹی کمشنر نے محکمہ داخلہ کی ہدایت پر جاری کیا ہے۔