نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے خوش آئند پیش رفت ہے، اگر صورتحال کو بروقت قابو میں نہ لایا جاتا تو یہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا تھا اور اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جاتے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں جنگ کے خطرات انتہائی سنگین نوعیت کے تھے اور عالمی برادری کو تشویش لاحق تھی کہ کہیں یہ تنازع وسیع پیمانے پر پھیل نہ جائے، پاکستان نے ہمیشہ امن، مذاکرات اور سفارتی حل کی حمایت کی ہے اور اسی پالیسی کے تحت دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کیا۔
مشیر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ باعث اعزاز ہے کہ عالمی سطح پر اس کی سفارتی کاوشوں کو سراہا جا رہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے غیرمعمولی کردار ادا کیا، جسے مستقبل میں بھی یاد رکھا جائے گا۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی بلکہ اس کے نتیجے میں انسانی جانوں، معیشتوں اور ریاستی ڈھانچوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں فریقین کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑا اور ان جنگوں کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جاتے رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور ہر سطح پر تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارتکاری کو ترجیح دیتا ہے، موجودہ معاہدہ اگر مستقل بنیادوں پر برقرار رہا تو اس سے نہ صرف خطے میں استحکام آئے گا بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے
آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج سے متعلق سوال کے جواب میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ مجموعی طور پر آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال تسلی بخش ہے اور معمولات زندگی معمول کے مطابق جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چند مقامات پر احتجاجی سرگرمیاں ضرور دیکھی جا رہی ہیں، تاہم بیشتر اضلاع میں حالات معمول کے مطابق ہیں، آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں اور بلدیاتی و انتخابی عمل میں بھی عوام بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں۔
رانا ثنااللہ نے بتایا کہ مختلف حلقوں سے امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرا رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جمہوری عمل پوری طرح فعال ہے، حکومت نے تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اختلافی آوازوں کو بھی جمہوری حدود میں رہتے ہوئے اظہار رائے کا موقع دیا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی صدرکی نظر دنیا کی دولت پر ہے، خطےکے وسائل پر قبضےکے لیے بد امنی پھیلائی گئی ہے: مولانا فضل الرحمان
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بعض عناصر ایسے ہو سکتے ہیں جو بیرونی ایجنڈے کے تحت خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہوں، تاہم اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو کشمیر کے مقصد اور عوامی مفاد کے ساتھ مخلص ہیں۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کے عوام کے درمیان رشتہ تاریخی، مذہبی اور ثقافتی بنیادوں پر قائم ہے اور اسے کمزور نہیں کیا جا سکتا، پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کی ہے اور اس مقصد کے لیے ہر سفارتی اور سیاسی فورم پر آواز بلند کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت خطے میں کشیدگی پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم پاکستان امن، استحکام اور باہمی احترام کی پالیسی پر قائم ہے، کسی بھی بڑے تنازع کے نتیجے میں پورا خطہ متاثر ہوتا ہے، اس لیے تمام فریقین کو تحمل اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
رانا ثنااللہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور ہر ایسے اقدام کی حمایت کرے گا جو جنگ کے بجائے امن اور استحکام کو فروغ دے۔







