سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی کے مطابق اجلاس کو پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) اور کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (قیسکو) کے خسارے میں چلنے والے فیڈرز کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ زیادہ نقصانات کرنے والے بجلی کے فیڈرز کو کمیونٹی، صوبائی حکومتوں اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے نہ صرف ان فیڈرز کے نقصانات میں کمی آئے گی بلکہ ان علاقوں میں بجلی کی مسلسل اور قابلِ اعتماد فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
انہوں نے پیسکو اور قیسکو کے زیادہ نقصان میں چلنے والے فیڈرز پر فوری طور پر پائلٹ منصوبے شروع کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پائلٹ پراجیکٹس کو کامیاب بنانے کے لیے مقامی منتخب نمائندوں سے مشاورت اور کمیونٹی کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ایسے فیڈرز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے سے مقامی آبادی کے لیے ماحول دوست، کم لاگت اور پائیدار مائیکرو گرڈ قائم ہو سکے گا، جس میں مقامی آبادی، صوبائی اور وفاقی حکومتیں بطور شراکت دار شامل ہوں گی۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی نے دہشت گردوں کو لا کر بسایا، ان کا لیڈر دہشت گردوں کو شہید کہتا رہا، عطاء تارڑ
اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ اس منصوبے سے نہ صرف کم لاگت بجلی پیدا ہوگی بلکہ مستقبل میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے مالی خسارے میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ منصوبے کی اصولی منظوری دیتے ہوئے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پائلٹ منصوبوں پر فوری طور پر کام شروع کیا جائے۔
خیال رہے کہ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے چیف سیکرٹریز سمیت اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔







