عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق چین کے انسانی خلائی پرواز کے ادارے نے اس انتخاب کا اعلان کیا ہے۔ یہ مشن بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت پاکستان اور چین کے دوطرفہ تعاون کا حصہ ہے۔

چین نے تاحال منتخب پاکستانی خلا باز کا نام یا روانگی کی تاریخ ظاہر نہیں کی، تاہم مشن رواں سال کے اختتام تک متوقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستانی پائلٹس ذیشان علی اور خرم داؤد نے بیجنگ میں قائم چائنا آسٹروناٹ ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر میں کئی ماہ تک تربیت حاصل کی ہے۔ تاہم چین نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان دونوں میں سے کس کا انتخاب کیا گیا ہے۔

پاکستان اور چین نے گزشتہ فروری میں پاکستانی خلا بازوں کی تربیت کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت چینی حکومت کی سربراہی میں تربیتی پروگرام قائم کیا گیا۔ اس پروگرام میں عملی مشقوں کے ساتھ چینی زبان کی خصوصی تعلیم بھی شامل ہے تاکہ امیدوار خلائی مشن کے لیے تیار ہوسکیں۔

چین کی قومی خلائی انتظامیہ پاکستان کا پہلا قمری روور جناح ون بھی چاند پر بھیجے گی۔ 35 کلوگرام وزنی اس روور میں خصوصی سائنسی آلات نصب ہیں، جن کے ذریعے پلازما کے رویے، تابکاری اور چاند کی مٹی کی ساخت کا تجزیہ کیا جائے گا۔

چین نے حالیہ برسوں میں اپنے خلائی پروگرام پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے اور امریکا کے ساتھ خلائی میدان میں مسابقت جاری ہے۔ بیجنگ کا ہدف 2030 تک خلا بازوں کو چاند پر اتارنا ہے۔

چین کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق مختصر مدت کے خلائی قیام کے بعد خلا باز شینزو 23 خلائی جہاز کے ذریعے زمین پر واپس آئیں گے۔