عالمی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ستمبر میں ریپبلکن کنونشن کے بعد جے ڈی وینس کی چھ تقاریر کا جائزہ لینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے پارٹی کے حق میں مہم چلاتے ہوئے زیادہ تر اپنی پالیسی ترجیحات پر بات کی، جن میں معاشی قوم پرستی، خارجہ پالیسی میں محتاط رویہ اور عوامی تحفظ شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق وینس نے ایران جنگ اور ملک بدری سے متعلق ٹرمپ کی نمایاں پالیسیوں کا ذکر کرنے سے گریز کیا، خصوصاً ایسے وقت میں جب رائے عامہ کے جائزوں میں ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت کو ریپبلکن امیدواروں کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا تھا۔
حکمت عملی سے واقف دو افراد کے مطابق یہ تبدیلی دانستہ تھی۔ وینس اور ان کے مشیروں کا خیال تھا کہ ان کے زیرِ سرپرستی آنے والے یہ معاملات سیاسی طور پر اہم ہیں اور نائب صدر انہیں زیادہ اعتماد اور اختیار کے ساتھ پیش کر سکتے ہیں۔
ایران جنگ پر ٹرمپ سے مختلف مؤقف
انتخابی شکست کے بعد جے ڈی وینس نے سوشل میڈیا پر ایک واضح بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے ریپبلکنز کی ناکامی کی وجوہات میں ایران جنگ کو بھی شامل کیا۔
انہوں نے جنگ جلد ختم کرنے، عوام کو درپیش مہنگائی اور اخراجات کے مسائل پر توجہ دینے، خارجہ پالیسی پر نظرثانی اور اسرائیل کے ساتھ امریکی تعلقات کا ازسرِنو جائزہ لینے پر زور دیا۔
رائٹرز کے مطابق یہ پہلا موقع تھا جب وینس نے عوامی سطح پر واضح طور پر جنگ ختم کرنے کی حمایت کی۔ تاہم وائٹ ہاؤس اور وینس کے قریبی ذرائع نے کہا کہ ان کا بیان ٹرمپ سے اختلاف یا علیحدگی کا اعلان نہیں تھا۔ وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوسی وائلز کو بھی اس پوسٹ کے بارے میں پہلے سے علم تھا۔
دوسری جانب ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ایران جنگ کے نتیجے میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے ریپبلکنز کی انتخابی شکست میں کردار ادا کیا، تاہم انہوں نے جنگ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس حوالے سے کچھ مختلف نہ کرتے۔
2028 کے صدارتی انتخابات پر نظریں
42 سالہ جے ڈی وینس نے تاحال یہ اعلان نہیں کیا کہ وہ 2028ء کے صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے یا نہیں، جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ابھی تک کسی امیدوار کی حمایت کا اعلان نہیں کیا۔ تاہم وینس کو ریپبلکن پارٹی کے ممکنہ صدارتی امیدواروں میں نمایاں سمجھا جاتا ہے۔
ریپبلکن حکمت عملی ساز مائیکل رِچی کے مطابق وینس کے بیان نے قدامت پسند حلقوں میں ایران جنگ اور مستقبل کی ریپبلکن سیاست کے بنیادی اصولوں پر بحث کو جنم دیا ہے۔
ان کے بقول وینس محض ٹرمپ سے خود کو الگ نہیں کر رہے بلکہ نائب صدر کے عہدے سے حاصل ہونے والے سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے بحث کا رخ متعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ وینس کی اپنی سیاسی ساکھ بھی انتخابی نتائج سے متاثر ہوئی ہے۔ جن ریاستوں میں انہوں نے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں مہم چلائی، وہاں بھی پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق اوہائیو میں ریپبلکن امیدوار ویویک راماسوامی کی حمایت میں چلنے والے ایک اشتہار پر بھی تنقید ہوئی، جس میں ڈیموکریٹ امیدوار ایمی ایکٹن کے ساتھ پیش آنے والے جنسی استحصال کے واقعے پر شکوک پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
ریپبلکن پارٹی کے دیگر ممکنہ صدارتی امیدواروں نے بھی انتخابی شکست کی وجوہات پر اپنی آرا پیش کی ہیں۔ سینیٹر ٹیڈ کروز نے مہنگائی کے مسئلے پر ناکافی توجہ کو شکست کی وجہ قرار دیا، جب کہ فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس کا کہنا تھا کہ امیدواروں نے ٹرانس جینڈر معاملات پر زیادہ توجہ دی اور ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت سے متعلق عوامی خدشات کو نظرانداز کیا۔
رائٹرز کے مطابق جے ڈی وینس کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ وہ 2028ء میں صدارتی امیدوار بننے کی صورت میں ٹرمپ کے حامی ووٹرز کی حمایت بھی برقرار رکھیں اور خود کو ٹرمپ کی متنازع پالیسیوں کے اثرات سے بھی الگ دکھا سکیں۔






