الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ وفاقی وزیر نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے این اے 77 کا دورہ کیا اور وہاں ایک اجتماع میں شرکت کی۔ یہ اجتماع مسلم لیگ (ن) کے امیدوار راشد بشیر ورک کی انتخابی مہم سے متعلق تھا۔

الیکشن کمیشن کے انتخابی ضابطۂ اخلاق کے تحت وفاقی وزرا سمیت عوامی عہدے رکھنے والے بعض حکومتی عہدیدار انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتے۔ اس پابندی کا مقصد حکومتی عہدے اور سرکاری اثر و رسوخ کو کسی امیدوار کے حق میں استعمال ہونے سے روکنا اور انتخابی عمل میں برابری کو یقینی بنانا ہے۔

اس معاملے میں دوسرا اہم پہلو انتخابی مہم کے اختتام سے متعلق ہے۔ الیکشنز ایکٹ 2017ء کی دفعہ 182 کے تحت پولنگ ختم ہونے کے بعد آنے والی نصف شب تک کے 48 گھنٹوں کے دوران متعلقہ حلقے میں عوامی اجتماع منعقد کرنے، اس میں شرکت کرنے یا جلوس کی تشہیر اور اس میں شرکت پر پابندی ہوتی ہے۔

ترجمان صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب کے مطابق عطاء اللہ تارڑ کو مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی انتخابی مہم میں شرکت اور انتخابی مہم پر پابندی کے دوران اجتماع میں شرکت کے معاملے پر نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ انہیں 8 نومبر صبح 11 بجے وضاحت کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گوجرانوالہ کا قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 77، مسلم لیگ (ن) کے پانچ مرتبہ منتخب ہونے والے رکن چوہدری محمود بشیر ورک کے 11 ستمبر 2026ء کو انتقال کے بعد خالی ہوا تھا۔ الیکشن کمیشن نے اس نشست پر ضمنی انتخاب کے لیے 8 نومبر کی تاریخ مقرر کی۔

مسلم لیگ (ن) نے اس انتخاب میں مرحوم رکن کے صاحبزادے راشد بشیر ورک کو امیدوار نامزد کیا ہے۔ ڈان کی اکتوبر میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اس نشست کے لیے 18 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے تھے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر سے رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ کمیشن کے مطابق حتمی فیصلے تک این اے 77 کے ضمنی انتخاب کا نتیجہ روکا بھی جا سکتا ہے۔

دوسری جانب صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب کے ترجمان کے مطابق عطاء اللہ تارڑ کی عدم پیشی کی صورت میں دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر کارروائی کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر کے خلاف ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام ابھی زیرِ تحقیقات ہے اور اس معاملے میں حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن کی کارروائی کے بعد سامنے آئے گا۔