امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق اس خصوصی ٹاسک فورس کے قیام کا حکم سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے دیا ہے۔

فورس میں تقریباً 20 فوجی اور سویلین اہلکار شامل ہوں گے، جبکہ اس کا مرکز امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر ٹیمپا میں قائم کیا جائے گا۔

سینٹ کام کے بیان کے مطابق ’آئرن گیٹ‘ امریکی حکومت کے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور ایران کی زمینی سرحدوں سمیت بحیرہ کیسپین کے راستے ہتھیاروں کی منتقلی کی نگرانی کرے گی۔

ٹاسک فورس ایران کو ایسے سامان کی فراہمی روکنے پر بھی نظر رکھے گی جسے شہری مقاصد کے ساتھ ساتھ فوجی استعمال میں بھی لایا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ غیر قانونی مالی ذرائع اور ان نیٹ ورکس کی نگرانی بھی کی جائے گی جن کے ذریعے ایران کو ہتھیاروں اور ممنوعہ سامان کی فراہمی ممکن ہوتی ہے۔

ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا ہے کہ امریکی حکومتی اداروں کے درمیان تعاون مضبوط بنا کر ایران کی مبینہ دہشت گردی کی مالی معاونت، ہتھیاروں کی پیداوار اور فوجی ذخائر دوبارہ بحال کرنے کی صلاحیت کو محدود کیا جا سکے گا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف کئی ماہ سے جاری بحری ناکہ بندی کے باعث تہران 25 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا خام تیل برآمد کرنے سے محروم رہا ہے۔

ایران کی جانب سے امریکی سینٹرل کمانڈ کی نئی ٹاسک فورس ’آئرن گیٹ‘ کے قیام کے اعلان پر تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔