اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ حکومت ٹیکنالوجی کے شعبے کو ملکی معیشت اور برآمدات میں اضافے کا اہم ذریعہ بنانے کے لیے مختلف اقدامات کررہی ہے

وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان کے لیے آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کی برآمدات اس لیے بھی اہمیت رکھتی ہیں کہ اس شعبے میں حاصل ہونے والی آمدن کا بڑا حصہ ٹریڈ سرپلس کی صورت میں سامنے آتا ہے، جبکہ دیگر برآمدی شعبوں کے برعکس آئی ٹی سروسز کی فراہمی کے لیے بھاری درآمدی مشینری اور بڑے پیمانے پر صنعتی آلات کی ضرورت نہیں ہوتی

شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ رواں سال جولائی میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 417 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 18 فیصد زیادہ ہیں

انہوں نے کہا کہ آئی ٹی شعبے کی بڑھتی ہوئی برآمدات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان میں موجود ٹیکنالوجی کے ماہرین، سافٹ ویئر ڈیولپرز اور فری لانسرز عالمی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ملک کے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ نہ صرف مقامی مارکیٹ بلکہ عالمی سطح پر بھی خدمات فراہم کرسکیں

شزا فاطمہ کے مطابق پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں تقریباً 85 سے 86 فیصد ٹریڈ سرپلس ہوتا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے اس شعبے کی اہمیت کو مزید بڑھاتا ہے

ان کا کہنا تھا کہ آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کی برآمدات کے لیے روایتی صنعتی شعبوں کی طرح بڑی مقدار میں مشینری درآمد کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، اس لیے اس شعبے سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ ملک کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے

انہوں نے کہا کہ حکومت آئی ٹی کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری، عالمی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری اور مقامی ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے پر توجہ دے رہی ہے

وفاقی وزیر نے عالمی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے ساتھ پاکستان میں جاری مختلف پروگرامز کا بھی ذکر کیا

انہوں نے بتایا کہ ’’اے آئی سیکھو 2026‘‘ پروگرام میں 17 ہزار سے زائد ٹیموں نے رجسٹریشن کرائی، جن میں خواتین کی نمائندگی تقریباً 25 فیصد رہی

شزا فاطمہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا شعبہ تیزی سے ترقی کررہا ہے اور پاکستان کے نوجوانوں کو اس ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے

ان کے مطابق حکومت اور عالمی ٹیک کمپنیوں کے درمیان تعاون سے نوجوانوں کو جدید مہارتیں سیکھنے اور انہیں عالمی سطح پر استعمال کرنے کے مزید مواقع فراہم کیے جاسکتے ہیں

شزا فاطمہ نے بتایا کہ تقریباً 50 ہزار ڈیولپرز کو گیمنگ، اینیمیشن اور دیگر ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت فراہم کی گئی ہے

انہوں نے کہا کہ ایپس اور ایپ ڈیزائن کے حوالے سے بھی ماسٹر کلاسز کا انعقاد کیا گیا، جبکہ گوگل کی جانب سے 120 کمپنیوں کو گیمنگ اور ڈیزائن کے شعبوں میں خصوصی ماسٹر کلاسز فراہم کی گئیں

وفاقی وزیر کے مطابق ایسے پروگرامز کا مقصد پاکستان کے مقامی ٹیلنٹ کو عالمی معیار کی مہارتوں سے آراستہ کرنا اور ملک میں ایک مضبوط ٹیک ایکو سسٹم تشکیل دینا ہے

شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ گزشتہ برس وزیراعظم شہباز شریف نے گوگل کروم بکس کی مقامی اسمبلی لائن کا افتتاح کیا تھا، جس کے بعد پاکستان میں کروم بکس کی مقامی سطح پر اسمبلی اور تیاری کا عمل شروع ہوا

انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں پاکستان میں تیار یا اسمبل ہونے والی ٹیکنالوجی مصنوعات کو عالمی منڈی میں برآمد کرنے کے امکانات بھی پیدا ہوں گے

وفاقی وزیر نے کہا کہ مقامی سطح پر ٹیکنالوجی مصنوعات کی تیاری سے ملک کے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کو مزید فروغ مل سکتا ہے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں

وفاقی وزیر نے ’’ڈیجیٹل سفر‘‘ پروگرام کا بھی ذکر کیا، جس کے تحت صحافیوں کو آن لائن سیفٹی اور دیگر ڈیجیٹل موضوعات پر تربیت فراہم کی گئی

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، اس لیے آن لائن سکیورٹی، ڈیجیٹل مہارتوں اور ذمہ دارانہ ٹیکنالوجی استعمال کے حوالے سے آگاہی بھی ضروری ہے

شزا فاطمہ نے کہا کہ گوگل کا پاکستان میں دفتر کھلنا ملک کے ٹیکنالوجی شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ گوگل سمیت عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی پاکستان میں موجودگی سے مقامی ٹیلنٹ کو عالمی مواقع تک رسائی حاصل ہوگی، جبکہ ملک کے ٹیک ایکو سسٹم میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا

وفاقی وزیر کے مطابق حکومت کی پالیسی کا مقصد پاکستان کو ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل سروسز اور آئی ٹی برآمدات کے حوالے سے ایک مضبوط علاقائی مرکز بنانا ہے

انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں مسلسل اضافہ حکومت، نجی شعبے، ٹیک کمپنیوں، ڈیولپرز اور نوجوانوں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے اور مستقبل میں اس شعبے کی برآمدی صلاحیت کو مزید بڑھانے پر توجہ دی جائے گی

شزا فاطمہ خواجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت آئی ٹی سیکٹر میں مقامی صلاحیتوں کو فروغ دینے، عالمی کمپنیوں کے ساتھ تعاون بڑھانے اور پاکستانی ٹیک ٹیلنٹ کو بین الاقوامی مارکیٹ سے جوڑنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔