میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی نئی پالیسی کا بنیادی مقصد امریکا میں کمرشل اسپیس ٹرانسپورٹ کے شعبے کو تیزی سے ترقی دینا، خلائی لانچنگ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور نجی کمپنیوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
نئی پالیسی میں خلائی اڈوں کی تعمیر اور انہیں فعال کرنے کے لیے درکار اجازت ناموں کے عمل کو آسان بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ امریکی حکومت نے متعلقہ اداروں کو ماحولیاتی جائزوں اور دیگر قانونی اجازتوں کے عمل میں تیزی لانے کی ہدایت کی ہے تاکہ نئے اسپیس پورٹس کی تعمیر میں غیر ضروری تاخیر کو کم کیا جاسکے۔
پالیسی کے تحت امریکی اداروں کو تجارتی خلائی لانچز کے لیے مطلوبہ وائرلیس اسپیکٹرم کی دستیابی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان تعاون بڑھانے کے ذریعے مستقبل کی خلائی نقل و حمل کے لیے جدید بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا نے گزشتہ سال مجموعی طور پر 178 خلائی لانچز اور دوبارہ داخلے مکمل کیے، جو 2013 کے مقابلے میں تقریباً 10 گنا زیادہ تعداد ہے۔ امریکی خلائی سرگرمیوں میں نجی کمپنیوں کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے اور ان میں ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس سب سے نمایاں ہے۔
اسپیس ایکس نے 2025 کے دوران 170 لانچز کیے اور تقریباً 2 ہزار 500 سیٹلائٹس مدار میں پہنچائے۔ کمپنی کی بڑھتی ہوئی لانچنگ صلاحیت نے امریکا کے تجارتی خلائی شعبے کو نئی رفتار دی ہے۔
امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کا مقصد خلائی شعبے میں امریکا کی عالمی برتری کو برقرار رکھنا اور مستقبل کی خلائی معیشت میں ملک کے کردار کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
وائٹ ہاؤس آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کے ڈائریکٹر مائیکل کریٹسیوس کے مطابق خلائی ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کررہی ہے، اس لیے نئی قومی خلائی نقل و حمل پالیسی امریکا کو آنے والے دور میں قیادت کے لیے تیار کرنے کی کوشش ہے۔
نئی پالیسی میں ناسا کے مستقبل کے منصوبوں کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ ناسا کو چاند تک تجارتی نقل و حمل کے امکانات بڑھانے، مریخ کے لیے تجارتی روبوٹک مشنز کی راہ ہموار کرنے اور مستقبل میں انسانوں کو مریخ تک پہنچانے کے لیے نجی شعبے کے ساتھ ممکنہ تعاون تلاش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے خلائی منصوبوں میں چاند کی جانب دوبارہ انسانی مشن بھی شامل ہیں۔ امریکی صدر 2028 تک امریکی خلابازوں کو دوبارہ چاند پر اتارنے کے خواہاں ہیں، جبکہ 2030 تک چاند پر ابتدائی مستقل اڈے کی بنیاد رکھنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔
نئی پالیسی کے تحت وفاقی سطح پر خلائی گاڑیوں کی دوبارہ زمین پر واپسی کے لیے نئی جگہ کی نشاندہی کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔ متعلقہ اداروں کو اس مقصد کے لیے 90 روز کے اندر مناسب مقام کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب اسپیس ایکس مستقبل میں اپنے سیٹلائٹ نیٹ ورک کو بھی غیر معمولی حد تک وسعت دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ کمپنی نے رواں سال جنوری میں بتایا تھا کہ وہ زمین کے گرد تقریباً 10 لاکھ سیٹلائٹس پر مشتمل وسیع نیٹ ورک قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے
امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے سربراہ کے مطابق اسپیس ایکس آنے والے پانچ برسوں کے دوران اپنی لانچنگ سرگرمیوں کو مزید بڑھانے اور سالانہ 10 ہزار لانچز تک پہنچنے کا ہدف رکھتی ہے۔
یاد رہے کہ اگر امریکا اور نجی خلائی کمپنیاں اپنے مقرر کردہ اہداف کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہوتی ہیں تو اس کے نتیجے میں خلائی نقل و حمل، سیٹلائٹ کمیونیکیشن، خلائی تحقیق اور تجارتی خلائی معیشت میں نمایاں تبدیلیاں آسکتی ہیں۔
نئی امریکی پالیسی سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن مستقبل کی خلائی دوڑ میں صرف سرکاری اداروں پر انحصار کرنے کے بجائے نجی کمپنیوں کو بھی مرکزی کردار دینا چاہتا ہے۔ چاند، مریخ اور زمین کے گرد مدار میں بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے باعث امریکا خلائی شعبے میں بنیادی ڈھانچے اور لانچنگ صلاحیت کو تیزی سے وسعت دینے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔







