سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر صحافی اعجاز چیمہ نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ واقعے کے بعد پمز ہسپتال کی حدود میں فائر بریگیڈ کے تعاون سے آگ بجھانے کی ایک مشق کا انعقاد کیا گیا، تاہم ریہرسل کے دوران استعمال کیے گئے فائر فائٹنگ سلنڈرز مؤثر ثابت نہ ہوسکے۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر عملے نے سلنڈرز سے متعدد بار اسپرے کیا اور انہیں مکمل طور پر خالی کردیا، تاہم گتے میں لگائی گئی معمولی آگ بھی بجھانے میں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔
صحافی اعجاز چیمہ نے دعویٰ کیا کہ سلنڈرز میں موجود فائر فائٹنگ گیس مبینہ طور پر ناقص اور غیر معیاری تھی، جس کے باعث آگ بجھانے کی مشق بھی مؤثر ثابت نہ ہوسکی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہسپتال کے کسی شعبے میں دوبارہ آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تو ناقص یا غیر مؤثر فائر فائٹنگ آلات انسانی جانیں بچانے کے بجائے مزید نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔
صحافی اعجاز چیمہ کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں ہسپتال کے عملے کو فائر ایکسٹنگوشرز کے ذریعے آگ بجھانے کی مشق کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کو بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں پمز کے حالیہ فائر واقعے سے جوڑا گیا، تاہم کیپیٹل ہسپتال کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز اس مشق کا مقام اور تاریخ واضح کرتی ہے۔
4 ستمبر کو جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق چیئرمین سی ڈی اے لیفٹیننٹ جنرل (ر) سہیل اشرف کی ہدایات پر کیپیٹل ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد نعیم تاج کی زیر نگرانی کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے تعاون سے فائر اینڈ سیفٹی ڈیمونسٹریشن، ریڈ کوڈ پالیسی اور ماک ڈرل کا انعقاد کیا گیا۔
سرکاری بیان کے مطابق مشق کا مقصد ہسپتال کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو بہتر بنانا اور فائر ایمرجنسی کی صورت میں رسپانس، ٹرائیج، کمیونیکیشن، ایویکوایشن، سیکیورٹی اور کلینیکل سپورٹ ٹیموں کے کردار کو واضح کرنا تھا۔
کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے ماہرین نے ہسپتال کے عملے کو فائر ایکسٹنگوشرز اور فائر بلینکیٹس کے استعمال کی عملی تربیت بھی دی، جس کے بعد عملے نے خود فائر سیفٹی مشق میں حصہ لیا۔
پریس ریلیز کے مطابق بعد ازاں آپریشن تھیٹر، نوزائیدہ بچوں کی انتہائی نگہداشت یونٹ (این آئی سی یو) اور سائیکاٹری وارڈ سمیت حساس شعبوں میں ماک ڈرل کی گئی، جس کے دوران وینٹی لیٹر پر موجود مریضوں، عمومی مریضوں اور این آئی سی یو کے نومولود بچوں کے محفوظ انخلاء کی مشق کی گئی۔
خیال رہے کہ پمز ہسپتال میں 26 اگست کو نرسری وارڈ میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت ہوئی تھی، جس کے بعد اسلام آباد میں ہسپتالوں اور دیگر عمارتوں کے فائر سیفٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
فیکٹ چیک: دستیاب شواہد کے مطابق وائرل ویڈیو کو پمز ہسپتال کی فائر ریہرسل قرار دینا درست نہیں۔ ویڈیو سے متعلق جس فائر سیفٹی مشق کی سرکاری تفصیلات دستیاب ہیں، وہ 4 ستمبر کو کیپیٹل ہسپتال، سی ڈی اے اسلام آباد میں منعقد ہوئی تھی۔







