اس فیصلے نے جہاں سندھ کے سرداری نظام اور نظامِ انصاف پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، وہیں مقتولین کی وارث ام رباب چانڈیو نے اس فیصلے کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

یاد رہے کہ 17 جنوری 2018 کی صبح میہڑ میں یو سی چیئرمین کرم اللہ چانڈیو کے گھر پر مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں ام رباب کے والد مختار چانڈیو، دادا کرم اللہ اور چچا قابل چانڈیو جاں بحق ہو گئے تھے۔

اس حملے کی وجہ مقتولین کی جانب سے سرداری نظام کے خلاف  تمن دار کونسل  کا قیام بتایا جاتا ہے، جس کا مقصد عام لوگوں کو بااثر وڈیروں کے تسلط سے نکالنا تھا۔

ایڈیشنل سیشن عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں ملزمان کی بریت کی درج ذیل وجوہات بیان کی ہیں۔

ایف آئی آر میں تاخیر، عدالت کے مطابق واقعے کی رپورٹ درج کرانے میں 16 گھنٹے کی تاخیر اسے مشکوک بناتی ہے۔

بیانات میں تضاد، عینی شاہدین کے بیانات اور میڈیکل رپورٹ میں فرق پایا گیا، جب کہ فائرنگ کے دوران گواہوں کا محفوظ رہنا عدالت کے لیے ناقابلِ فہم رہا۔

ثبوتوں کی کمی، عدالت نے قرار دیا کہ سردار احمد خان کے خلاف سازش کا کوئی براہِ راست ثبوت نہیں ملا، جب کہ برہان خان کی جائے وقوعہ پر موجودگی سی ڈی آر (کال ریکارڈ) سے ثابت نہ ہو سکی۔

اس فیصلے پر سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے عدالتی نظام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے جاگیرداروں کے تابع قرار دیا ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کی قیادت سے سوال کیا کہ کیا ام رباب سندھ کی بیٹی نہیں ہے؟ سوشل میڈیا پر بھی اس فیصلے کو سرداری نظام کی جیت قرار دیا جا رہا ہے۔

فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ام رباب چانڈیو کا کہنا تھا کہ اگرچہ ریاست کی عدالت نے ملزمان کو رہا کر دیا ہے، لیکن عوامی عدالت ان کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے۔ انہوں نے ننگے پاؤں عدالتوں کے چکر کاٹ کر دی جانے والی اپنی 8 سالہ جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گی اور انصاف کے حصول تک پیچھے نہیں ہٹیں گی۔

واضح رہے کہ یہ کیس سندھ میں وڈیرہ شاہی کے خلاف مزاحمت کی علامت بن چکا ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں تفتیش کے معیار اور گواہوں کے تحفظ کے حوالے سے کیا پیش رفت ہوتی ہے۔