یہ واقعہ 27 اپریل کو پٹانا بلاک میں اوڈیشہ گرامین بینک کی مالیپوسی برانچ میں پیش آیا۔ مذکورہ شخص، جیتو منڈا، کے مطابق وہ اپنی بہن کلرا منڈا کے اکاؤنٹ سے 20 ہزار روپے نکلوانے کے لیے متعدد بار بینک گیا، تاہم اسے مبینہ طور پر اکاؤنٹ ہولڈر کو ذاتی طور پر پیش کرنے کا کہا جاتا رہا۔
جیتو منڈا کا کہنا ہے کہ اس نے بینک عملے کو بتایا تھا کہ اس کی بہن 26 جنوری کو انتقال کر چکی ہے، لیکن اس کے باوجود اس کی بات کو نظرانداز کیا گیا۔ مایوسی کے عالم میں اس نے اپنی بہن کی قبر کھود کر اس کی ہڈیاں بطور ثبوت بینک پہنچا دیں۔
مقامی پولیس کے مطابق یہ واقعہ قانونی طریقہ کار سے لاعلمی کا نتیجہ ہے۔ انسپکٹر کرن پرساد ساہو نے بتایا کہ مسئلہ وراثتی دستاویزات اور نامزدگی کے تقاضوں کو نہ سمجھنے اور بینک عملے کی جانب سے مناسب رہنمائی نہ دینے کے باعث پیدا ہوا۔
Odisha Man Digs Up Sister s Skeleton as Proof to Claim the Money in Her Account pic.twitter.com/1xzUKmerlC
— TIMES NOW (@TimesNow) April 28, 2026
واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں، بشمول بیجو جنتا دل اور انڈین نیشنل کانگریس، نے ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس صورتحال کو غیر انسانی قرار دیا۔
ریاستی وزیر سریش پجاری نے بھی اس معاملے میں “انسانی ہمدردی کے فقدان” کا اعتراف کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ جبکہ سب کلیکٹر اوما شنکر ڈالائی کے مطابق جیتو منڈا ممکنہ طور پر قانونی طور پر قریبی وارث کے زمرے میں نہیں آتا اور اس کے پاس مطلوبہ دستاویزات بھی موجود نہیں تھیں۔
حکام نے اب اس کی مدد شروع کر دی ہے، جس میں ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور لیگل ہیر سرٹیفکیٹ کے حصول میں معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ ریڈ کراس کے ذریعے 20 ہزار روپے کی مالی امداد فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔






