28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ایران کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا، اس کے دو دن بعد یعنی دو مارچ کو اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی نیوز چینل فاکس نیوز کو انٹرویو دیا اور پھر اس کے بعد وہ کہیں گم ہو جاتے ہیں۔

اسی دوران سوشل میڈیا پر خبریں گردش کرنے لگتی ہیں کہ نیتن یاہو مارا جا چکا ہے، جب کہ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ صہیونی مجرم نیتن یاہو کے انجام کے بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں۔ ممکن ہے کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ مارا گیا ہو یا مقبوضہ علاقوں سے فرار ہو گیا ہو اور اگر وہ زندہ ہے تو ہم پوری قوت کے ساتھ اس کا پیچھا کریں گے، ڈھونڈیں گے اور مار ڈالیں گے۔

اس بیان کے بعد اسرائیلی وزیراعظم کے آفس کی جانب سے بیان سامنے آیا کہ نیتن یاہو زندہ ہیں، انہیں کچھ نہیں ہوا۔ لیکن افواہیں تھم نہیں رہی تھیں، کیونکہ دس دن ہو چکے تھے اور وہ اب تک سامنے نہیں آئے تھے۔

پھر 12 مارچ کو نیتن یاہو کا خطاب دنیا کے سامنے آتا ہے جس میں ان کی چھ انگلیاں نظر آتی ہیں۔ اب افواہیں حقیقت میں بدلنے لگیں تھیں، دنیا بھر کے اینالسٹس کو یہی لگا کہ یہ ویڈیو اے آئی سے بنائی گئی ہے۔ اس دوران کئی اے آئی سے بنی تصاویر سامنے آنے لگیں جس میں نیتن یاہو کی لاش کو دکھایا گیا۔

ان افواہوں کو مزید تقویت تب ملی جب 14 مارچ کو اسرائیل کی سکیورٹی میٹنگ اور اس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بھی اسرائیلی وزیراعظم نظر نہیں آئے۔ اس کے جواب میں ایک بار پھر سے اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی طرف سے جاری کیے جانے والے بیان میں تمام افواہوں کو غلط قرار دیا گیا۔

15 مارچ کو اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دینے کے لیے نیتن یاہو کو کیفے ٹیریا کا رخ کرنا پڑا اور ویڈیو پوسٹ کی جس میں انہوں نے جان بوجھ کر اپنا ہاتھ لہرا کر دکھایا کہ ان کی پانچ انگلیاں ہیں، لیکن یہاں بھی لوگوں کو یہی لگا کہ یہ ویڈیو بھی فیک ہے اور پہلے سے ریکارڈ شدہ ہے، کیونکہ اس ویڈیو میں بھی ان کے انگلیوں کی ساخت غیر واضح تھی، کافی کا کپ جو کہ بھرا ہوا تھا لیکن نیتن یاہو کے بارہا ہاتھ ہلانے کے باوجود کافی نہیں گری اور کافی پینے کے باوجود اس میں سے کافی بالکل کم نہ ہوئی۔ کسی نے کہا کہ جس کیفے کی کافی وہ پی رہے ہیں وہ پہلے ہی بند ہوچکا ہے۔

یہ بحث یہی رکی ہی نہیں تھی کہ نیتن یاہو اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دینے کے لیے ایک اور ویڈیو ریلز کرنی پڑی جس میں وہ کسی سیاحتی مقام پر موجود ہیں اور وہاں موجود لوگوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا صارفین نے اس ویڈیو پر بھی سوال اٹھانا شروع کر دیا ہے اور ان کا خیال ہے کہ نیتن یاہو مارے جا چکے ہیں اور یہ سب اے آئی سے بنی ویڈیوز ہیں یا پھر پہلے سے ریکارڈ شدہ ہیں۔

لیکن حقیقت یہی ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم اب بھی زندہ ہیں، کیونکہ نہ کسی معتبر نیوز ادارے اور نہ ہی کسی انٹیلیجنس ذریعے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ مارے جا چکے ہیں۔ اگر واقعی اسرائیلی وزیراعظم ہلاک ہو چکے ہوتے، تو خطے کی سیاسی اور عسکری صورتحال میں فوری اور نمایاں تبدیلی نظر آتی۔