گزشتہ روز آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے میں حملہ آور سمیت مجموعی طور پر 16 افراد ہلاک، جب کہ 40 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔

واقعے کے دوران ایک حملہ آور پولیس کی فائرنگ سے مارا گیا، جب کہ دوسرا حملہ آور زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا جو تاحال اسپتال میں زیر علاج ہے۔

آسٹریلوی حکام نے ابتدائی طور پر کسی بھی حملہ آور کی شناخت یا قومیت ظاہر نہیں کی تھی، تاہم واقعے کے بعد آسٹریلوی میڈیا میں یہ خبر گردش کرنے لگی کہ ایک حملہ آور کا نام نوید اکرم ہے۔

اگرچہ آسٹریلوی میڈیا نے حملہ آور کی قومیت یا پس منظر کے حوالے سے کوئی تصدیق شدہ معلومات فراہم نہیں کیں تھیں، مگر نام سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں کا طوفان برپا ہو گیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر متعدد اکاؤنٹس سے غلط اور گمراہ کن معلومات شیئر کی جانے لگیں، جن میں اکثریت انڈین اکاؤنٹس کی تھی۔

ان اکاؤنٹس کی جانب سے آسٹریلوی میڈیا میں نشر ہونے والی مبینہ حملہ آور کی تصاویر کے ساتھ ایسی تصاویر بھی شیئر کی گئیں جن میں ایک نوجوان کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کی جرسی پہنے دیکھا جا سکتا تھا۔

ان تصاویر کے ساتھ موجود پیغامات میں الزام لگایا گیا کہ مذکورہ نوجوان، جس کا نام نوید اکرم بتایا جا رہا ہے، بونڈائی حملے میں ملوث تھا اور اس کا تعلق پاکستان کے شہر لاہور سے ہے۔

ان پوسٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ حملہ آور نوید اکرم پاکستان کی ہمدرد یونیورسٹی کا گریجویٹ ہے۔

ان گمراہ کن پوسٹس کے وائرل ہونے کے بعد کئی سوالات نے جنم لیا، جس پر سڈنی میں مقیم نوید اکرم نے سوشل میڈیا پر جاری اس پروپیگنڈے کا جواب دیتے ہوئے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔

انہوں نے بونڈائی میں ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور واضح کیا کہ ان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

نوید اکرم نے میڈیا اداروں اور سوشل میڈیا صارفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی تصاویر غلط طور پر استعمال کی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نہ تو وہ اس حملے میں ملوث ہیں اور نہ ہی انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔

انہوں نے میڈیا اداروں اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی کہ کسی بھی تصویر یا خبر کو شیئر کرنے سے قبل اس کی تصدیق ضرور کریں۔

نوید اکرم کا کہنا تھا کہ بونڈائی حملے میں گرفتار ہونے والے حملہ آور کا نام سامنے آنے کے بعد ان کے فیس بک اکاؤنٹ سے تصاویر اٹھا کر چلائی جا رہی ہیں، جس پروپیگنڈے کو وہ مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔

اس جھوٹے پروپیگنڈے کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے آسٹریلیا کے وزیر داخلہ ٹونی برک نے کہا کہ مارا جانے والا 50 سالہ حملہ آور 1998 میں بیرون ملک سے اسٹوڈنٹ ویزا پر آسٹریلیا آیا تھا۔ ان کے مطابق 2001 میں حملہ آور نے پارٹنر ویزا حاصل کیا اور بعد ازاں اسے ریذیڈنٹ ریٹرن ویزے بھی ملے۔

آسٹریلوی وزیر داخلہ کے مطابق دوسرا حملہ آور، جو مارے جانے والے شخص کا بیٹا ہے، اس وقت زیر حراست ہے اور وہ آسٹریلیا میں ہی پیدا ہوا تھا۔

ان حقائق سے یہ بات واضح ہو گئی کہ حملہ آور نوید اکرم نہ تو پاکستانی شہری تھا اور نہ ہی اس کا پاکستان کی کسی یونیورسٹی سے کوئی تعلق تھا۔

خیال رہے کہ آسٹریلوی حکام نے تاحال یہ واضح نہیں کیا ہے کہ ساجد اور نوید اکرم کا کسی اور ملک سے تعلق تھا یا نہیں، تاہم بونڈائی ساحل پر فائرنگ کے واقعے کے بعد سے آسٹریلیا کے مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس معاملے پر بحث جاری ہے۔

دوسری جانب آسٹریلوی چینل نائن ناؤ سے گفتگو کرتے ہوئے شوٹر کے ایک ساتھی نے دعویٰ کیا کہ نوید اکرم کے والد کا تعلق انڈیا، جب کہ والدہ کا تعلق اٹلی سے ہے۔

ان تازہ انکشافات کے بعد انڈیا کی جانب سے پیدا کی جانے والی بے چینی اور پاکستان کے خلاف جھوٹے بیانیے کی حقیقت مزید واضح ہو گئی ہے۔

واضح رہے کہ انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے جھوٹی تصاویر اور بے بنیاد الزامات پھیلا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی منظم کوشش کی۔

 سڈنی میں پیش آنے والے اس افسوسناک سانحے کو سیاسی مقاصد اور پروپیگنڈا جنگ میں تبدیل کرنا ہر صورت قابل مذمت ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی جعلی ویڈیوز، جھوٹے الزامات اور بے بنیاد دعوے نہ صرف انسانی اقدار کے منافی ہیں بلکہ اس واقعے میں متاثر ہونے والے حقیقی افراد کی کہانی کو بھی پس منظر میں دھکیل دیتے ہیں۔

پاکستان کو نشانہ بنانے کی اس منظم سازش نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ حقائق کو مسخ کر کے نفرت اور انتشار پھیلانا بعض حلقوں کا مستقل وطیرہ بن چکا ہے۔