گزشتہ روز آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے میں حملہ آور سمیت مجموعی طور پر 16 افراد ہلاک، جب کہ 40 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔
واقعے کے دوران ایک حملہ آور پولیس کی فائرنگ سے مارا گیا، جب کہ دوسرا حملہ آور زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا جو تاحال اسپتال میں زیر علاج ہے۔
آسٹریلوی حکام نے ابتدائی طور پر کسی بھی حملہ آور کی شناخت یا قومیت ظاہر نہیں کی تھی، تاہم واقعے کے بعد آسٹریلوی میڈیا میں یہ خبر گردش کرنے لگی کہ ایک حملہ آور کا نام نوید اکرم ہے۔
This pakistani Islamist carried out the terror attack in Australia s Bondy Beach today
— Hindutva Knight (@HPhobiaWatch) December 14, 2025
What could be his religion I wonder? pic.twitter.com/hp098BMHgw
اگرچہ آسٹریلوی میڈیا نے حملہ آور کی قومیت یا پس منظر کے حوالے سے کوئی تصدیق شدہ معلومات فراہم نہیں کیں تھیں، مگر نام سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں کا طوفان برپا ہو گیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر متعدد اکاؤنٹس سے غلط اور گمراہ کن معلومات شیئر کی جانے لگیں، جن میں اکثریت انڈین اکاؤنٹس کی تھی۔
ان اکاؤنٹس کی جانب سے آسٹریلوی میڈیا میں نشر ہونے والی مبینہ حملہ آور کی تصاویر کے ساتھ ایسی تصاویر بھی شیئر کی گئیں جن میں ایک نوجوان کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کی جرسی پہنے دیکھا جا سکتا تھا۔
ان تصاویر کے ساتھ موجود پیغامات میں الزام لگایا گیا کہ مذکورہ نوجوان، جس کا نام نوید اکرم بتایا جا رہا ہے، بونڈائی حملے میں ملوث تھا اور اس کا تعلق پاکستان کے شہر لاہور سے ہے۔
BREAKING:
— Visegrád 24 (@visegrad24) December 14, 2025
The Bondi Beach terrorist Naveed Akram had studied at Hamdard University in Islamabad, Pakistan.
Who was he in touch with over there? pic.twitter.com/84LxCl3EBo
ان پوسٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ حملہ آور نوید اکرم پاکستان کی ہمدرد یونیورسٹی کا گریجویٹ ہے۔
ان گمراہ کن پوسٹس کے وائرل ہونے کے بعد کئی سوالات نے جنم لیا، جس پر سڈنی میں مقیم نوید اکرم نے سوشل میڈیا پر جاری اس پروپیگنڈے کا جواب دیتے ہوئے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔
انہوں نے بونڈائی میں ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور واضح کیا کہ ان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
نوید اکرم نے میڈیا اداروں اور سوشل میڈیا صارفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی تصاویر غلط طور پر استعمال کی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نہ تو وہ اس حملے میں ملوث ہیں اور نہ ہی انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔
Father Sajid Akram came to Australia in 1998 on a student visa and became a citizen after converting to a partner visa in 2001.
— Ali (@SalazaarAli) December 15, 2025
His son Naveed Akram was born and raised in Australia and has Indian (father) and Italian (mother) heritage. pic.twitter.com/14DqDe0qFg
انہوں نے میڈیا اداروں اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی کہ کسی بھی تصویر یا خبر کو شیئر کرنے سے قبل اس کی تصدیق ضرور کریں۔
نوید اکرم کا کہنا تھا کہ بونڈائی حملے میں گرفتار ہونے والے حملہ آور کا نام سامنے آنے کے بعد ان کے فیس بک اکاؤنٹ سے تصاویر اٹھا کر چلائی جا رہی ہیں، جس پروپیگنڈے کو وہ مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔
اس جھوٹے پروپیگنڈے کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے آسٹریلیا کے وزیر داخلہ ٹونی برک نے کہا کہ مارا جانے والا 50 سالہ حملہ آور 1998 میں بیرون ملک سے اسٹوڈنٹ ویزا پر آسٹریلیا آیا تھا۔ ان کے مطابق 2001 میں حملہ آور نے پارٹنر ویزا حاصل کیا اور بعد ازاں اسے ریذیڈنٹ ریٹرن ویزے بھی ملے۔
آسٹریلوی وزیر داخلہ کے مطابق دوسرا حملہ آور، جو مارے جانے والے شخص کا بیٹا ہے، اس وقت زیر حراست ہے اور وہ آسٹریلیا میں ہی پیدا ہوا تھا۔
ان حقائق سے یہ بات واضح ہو گئی کہ حملہ آور نوید اکرم نہ تو پاکستانی شہری تھا اور نہ ہی اس کا پاکستان کی کسی یونیورسٹی سے کوئی تعلق تھا۔
The second shooter has been identified as the 50-year-old father of Naveed Akram (the shooter who was identified earlier today). The father’s name is Sajid Akram and he was in Australia on a tourist visa. They are from Pakistan. The father had a license for 6 firearms, all of… pic.twitter.com/5w7vs39jrC
— Adam Milstein (@AdamMilstein) December 14, 2025
خیال رہے کہ آسٹریلوی حکام نے تاحال یہ واضح نہیں کیا ہے کہ ساجد اور نوید اکرم کا کسی اور ملک سے تعلق تھا یا نہیں، تاہم بونڈائی ساحل پر فائرنگ کے واقعے کے بعد سے آسٹریلیا کے مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس معاملے پر بحث جاری ہے۔
دوسری جانب آسٹریلوی چینل نائن ناؤ سے گفتگو کرتے ہوئے شوٹر کے ایک ساتھی نے دعویٰ کیا کہ نوید اکرم کے والد کا تعلق انڈیا، جب کہ والدہ کا تعلق اٹلی سے ہے۔
ان تازہ انکشافات کے بعد انڈیا کی جانب سے پیدا کی جانے والی بے چینی اور پاکستان کے خلاف جھوٹے بیانیے کی حقیقت مزید واضح ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے جھوٹی تصاویر اور بے بنیاد الزامات پھیلا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی منظم کوشش کی۔
سڈنی میں پیش آنے والے اس افسوسناک سانحے کو سیاسی مقاصد اور پروپیگنڈا جنگ میں تبدیل کرنا ہر صورت قابل مذمت ہے۔
🚨 BIG BREAKING: The attacker of Bondi Beach Naveed Akram is of Indian background, is father is Indian and his mother is Italian.
— Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) December 15, 2025
— Confirmed by neighbours in Australia.
This dispels propaganda against Pakistan. pic.twitter.com/IiA6m7BgPG
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی جعلی ویڈیوز، جھوٹے الزامات اور بے بنیاد دعوے نہ صرف انسانی اقدار کے منافی ہیں بلکہ اس واقعے میں متاثر ہونے والے حقیقی افراد کی کہانی کو بھی پس منظر میں دھکیل دیتے ہیں۔
پاکستان کو نشانہ بنانے کی اس منظم سازش نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ حقائق کو مسخ کر کے نفرت اور انتشار پھیلانا بعض حلقوں کا مستقل وطیرہ بن چکا ہے۔






