محکمہ اوقاف نے ابتدائی کارروائی کرتے ہوئے دو منیجرز کے خلاف محکمانہ کارروائی کی ہے، جب کہ مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس معاملے میں اور کون کون ملوث تھا۔

 معاملہ کیسے سامنے آیا؟

رپورٹس کے مطابق محکمہ اوقاف نے داتا دربار کے چندہ باکسز سے حاصل ہونے والی آمدن اور مالی ریکارڈ کا جائزہ لیا تو کئی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔

ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ چندہ باکسز سے نکلنے والی لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے کی رقم مکمل طور پر سرکاری خزانے میں جمع نہیں کروائی جا رہی تھی۔

اس کے بعد محکمہ اوقاف نے باقاعدہ انکوائری شروع کی، جس میں متعدد مالی ریکارڈ، بینک ٹرانزیکشنز اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کا جائزہ لیا گیا۔

تفتیشی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق داتا دربار کے چندہ باکسز سے سوا کروڑ روپے سے زائد کی نقد رقم مبینہ طور پر سرکاری خزانے میں جمع کروانے کے بجائے خردبرد کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق اس مبینہ مالی بے ضابطگی کو چھپانے کے لیے کئی اقدامات بھی کیے گئے تاکہ بعد میں اس کا سراغ نہ لگایا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق  چندہ باکسز سے حاصل ہونے والی مکمل رقم سرکاری ریکارڈ میں ظاہر نہیں کی گئی۔ مالی ریکارڈ میں متعدد بے ضابطگیاں پائی گئیں۔گنتی کے عمل کی نگرانی مؤثر انداز میں نہیں کی جا رہی تھی اور  بعض معاملات میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے شواہد بھی ملے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج کے ساتھ کیا کیا گیا؟

تفتیشی رپورٹ کے مطابق مبینہ خردبرد کے ثبوت مٹانے کے لیے داتا دربار میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز کے ساتھ بھی چھیڑ چھاڑ کی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چند اہم ویڈیوز اور ریکارڈ جان بوجھ کر ڈیلیٹ کیے گئے تاکہ چندہ باکسز کھولنے اور رقم گننے کے دوران ہونے والی مبینہ ہیرا پھیری سامنے نہ آ سکے۔

پولیس اور محکمہ اوقاف اس پہلو کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ فوٹیج حذف کرنے کا حکم کس نے دیا اور اس میں کون کون شامل تھا۔

آمدن میں اچانک اضافہ کیسے ہوا؟

تحقیقات کے دوران محکمہ اوقاف کے ہیڈ کوارٹر نے خود نگرانی کرتے ہوئے چندہ باکسز کھلوائے اور رقم کی گنتی کروائی۔

رپورٹ کے مطابق حیران کن طور پر زائرین کی تعداد میں نمایاں اضافہ نہ ہونے کے باوجود داتا دربار کی آمدن صرف چند دنوں میں تقریباً 44 لاکھ روپے سے بڑھ کر 75 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔

حکام کے مطابق اس فرق نے اس شبہے کو مزید مضبوط کیا کہ اس سے قبل چندہ باکسز کی آمدن میں باقاعدگی سے مبینہ خردبرد کی جا رہی تھی۔

کن افراد کے خلاف کارروائی ہوئی؟

ابتدائی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد محکمہ اوقاف نے ذمہ داری عائد کرتے ہوئے دو منیجرز کے خلاف محکمانہ کارروائی کی۔

رپورٹس کے مطابق دونوں منیجرز کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا اور  ان کی تنزلی کر دی گئی ساتھ ہی ان  سے سوا کروڑ روپے کی ریکوری کا حکم جاری کیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں مزید افراد کا کردار ثابت ہوا تو ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔

حکومت نے کیا اقدامات کیے؟

صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور چوہدری شافع حسین کی زیر صدارت اوقاف بورڈ کے اجلاس میں اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ  صوبے بھر کے مزارات پر نصب کیش باکسز کو مرحلہ وار ڈیجیٹائز کیا جائے گا۔ چندہ اور عطیات کے نظام کو زیادہ شفاف بنایا جائے گا۔ مالی لین دین کی مسلسل مانیٹرنگ کی جائے گی اور محکمہ اوقاف میں کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی جاری رکھی جائے گی۔

وزیر اوقاف کا کہنا تھا کہ مزارات پر آنے والے نذرانے عوام کی امانت ہیں اور ان میں خردبرد کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

اب تحقیقات کہاں تک پہنچی ہیں؟

محکمہ اوقاف کے مطابق تفتیشی رپورٹ کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

رپورٹس کے مطابق معاملہ مزید تحقیقات کے لیے متعلقہ تحقیقاتی اداروں، بشمول اینٹی کرپشن حکام، کو بھی بھیجا جا رہا ہے تاکہ مالی ریکارڈ، بینک ٹرانزیکشنز، سی سی ٹی وی شواہد اور ذمہ دار افراد کے کردار کا مکمل تعین کیا جا سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران مزید افراد یا افسران کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے تو ان کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔