تاہم، تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ وائرل ہونے والی تصویر کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور اسے مصنوعی ذہانت اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل دعوے
یکم مارچ کو ایک ایران نواز صارف نے خامنہ ای کی ملبے کے نیچے مبینہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ میرے قائد نے اپنی جان دے دی۔ اس پوسٹ کو تقریباً 48 لاکھ ویوز اور 20 ہزار سے زائد لائکس ملے۔
اسی تناظر میں ایک اور صارف نے یہی تصویر شیئر کرتے ہوئے کیپشن دیا کہ میرے پیارے قائد، میری جان آپ پر قربان۔ اس پوسٹ کو 20 لاکھ سے زائد ویوز اور 16 ہزار لائکس ملے۔
ایک اور صارف نے دعویٰ کیا کہ ایران نے ملبے کے نیچے خامنہ ای کی لاش کی تصویر جاری کی۔
اس پوسٹ کو تقریباً 46 لاکھ مرتبہ دیکھا گیا۔
انڈین نیشنل کانگریس کے ایک حامی اکاؤنٹ نے بھی اسی تصویر کو شیئر کرتے ہوئے خامنہ ای کی شہادت کا دعویٰ کیا، جسے 3 لاکھ 40 ہزار سے زائد ویوز ملے۔
ایک پاکستانی اکاؤنٹ نے بھی اسی تصویر کو مختلف دعوے کے ساتھ شیئر کیا، جسے تقریباً 1 لاکھ 70 ہزار ویوز حاصل ہوئے۔
متعدد بین الاقوامی ڈیجیٹل میڈیا ویب سائٹس نے بھی اسی تصویر کو اسی نوعیت کے دعوؤں کے ساتھ شائع کیا۔
اس کے علاوہ، ایک اور تصویر بھی شیئر کی گئی جس میں مبینہ طور پر خامنہ ای کی لاش کو بستر پر دکھایا گیا تھا۔ اس پوسٹ کو تقریباً چار لاکھ ویوز ملے۔
تحقیق کیا کہتی ہے؟
دعویٰ سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلنے اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کیا گیا۔
دوسری جانب کسی بھی معتبر ایرانی یا بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے اس تصویر کی اشاعت یا تصدیق نہیں کی۔
تصویر کا بغور جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی کہ مبینہ لاش کے اوپر ایک امدادی کارکن براہِ راست ملبے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے، جو حقیقی ریسکیو آپریشنز کے طریقۂ کار کے برعکس ہے، کیونکہ امدادی کارروائیوں میں انتہائی احتیاط برتی جاتی ہے۔
مزید برآں، تصویر کا فرانزک تجزیہ مختلف اے آئی ڈیٹیکشن ٹولز کے ذریعے کیا گیا۔ متعدد ٹولز نے اسے اے آئی سے تیار کردہ قرار دیا۔
نتیجہ
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ لاش کی تصویر مستند نہیں ہے۔ دستیاب شواہد کے مطابق تصویر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔






