پاکستان میٹرز فیکٹ چیک ٹیم کی تحقیق کے مطابق یہ دعویٰ گمراہ کن ہے۔ یہ معاملہ دراصل دو سال پرانا ہے، جسے صحافی منصور مگھیری نے ایک نجی نیوز چینل پر سرکاری دستاویزات اور محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کی مانیٹرنگ رپورٹ کی بنیاد پر رپورٹ کیا تھا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وائرل پوسٹ میں بیان کی گئی 80 ارب روپے کی رقم درست نہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق خیرپور میونسپل کارپوریشن کو اس منصوبے کے لیے تقریباً 55 کروڑ روپے جاری کیے گئے تھے۔
دستاویزات میں بتایا گیا کہ ان میں سے صرف 3 کروڑ روپے خرچ ہونا ظاہر کیے گئے، جب کہ تقریباً 2 کروڑ روپے کے اخراجات کا ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ یعنی وائرل دعوے میں بتائی گئی رقم حقیقت سے سو گنا سے بھی زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی۔
البتہ یہ بات درست ہے کہ منصوبے کے باوجود موقع پر چڑیا گھر موجود نہیں ملا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق زولوجیکل پارک کا منصوبہ 2017 میں منظور ہوا جب کہ 2020 میں اس پر کام شروع کیا گیا۔
منصوبے کے تحت بندر، نیل گائے اور دیگر جانوروں کے لیے ایک جدید چڑیا گھر قائم کیا جانا تھا، مگر جب مانیٹرنگ ٹیم نے موقع کا معائنہ کیا تو وہاں صرف ایک خالی چار دیواری موجود تھی، نہ کوئی جانور تھا اور نہ ہی کوئی فعال پارک۔
مزید پڑھیں: کیا وزیرِ اعظم شہباز شریف کا ’ڈرافٹ‘ والا ٹویٹ کسی اور ملک نے لکھا تھا؟
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ چار دیواری کے اندر پورے خیرپور شہر کا کچرا پھینکا جا رہا تھا۔ چونکہ یہ زمین نسبتاً نشیبی تھی، اس لیے مٹی بھرائی کے بجائے میونسپل کارپوریشن کو وہاں کچرا ڈالنے کی اجازت دی گئی تاکہ زمین کی سطح بلند ہو سکے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا 80 ارب روپے خرچ ہونے کا دعویٰ غلط اور مبالغہ آمیز ہے۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ جس منصوبے کے تحت خیرپور میں چڑیا گھر قائم ہونا تھا، وہ عملی طور پر مکمل نہ ہو سکا اور معائنے کے وقت وہاں صرف خالی چار دیواری اور کچرا موجود تھا۔






