تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل، جو بظاہر ایک محدود جغرافیائی حدود رکھنے والی ریاست ہے، عالمی سطح پر خصوصاً امریکا میں مضبوط سیاسی اور سفارتی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ گریٹر اسرائیل کا تصور تاریخی اور مذہبی حوالوں سے نیل سے فرات تک علاقوں پر مشتمل ایک وسیع ریاست کے خیال سے جوڑا جاتا ہے، تاہم اسرائیل کی جانب سے اس حوالے سے کوئی سرکاری مؤقف موجود نہیں۔
مبصرین کے مطابق گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضہ، غزہ میں جاری کارروائیاں اور لبنان کی سرحد پر کشیدگی کو بعض حلقے اسی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت نے متعدد مواقع پر بین الاقوامی قوانین اور عالمی دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے سخت پالیسی اپنائی ہے۔
دوسری جانب ایران نے گزشتہ چار دہائیوں کے دوران شام، لبنان، عراق اور یمن میں اپنے اتحادی گروہوں کے ذریعے خطے میں مضبوط اثر قائم کیا ہے۔
تہران کا مؤقف ہے کہ اس کی پالیسی کا مقصد اسرائیلی اور مغربی دباؤ کا مقابلہ کرنا اور خطے میں مزاحمتی قوتوں کی حمایت کرنا ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق ایران کے اس بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو بعض حلقے گریٹر ایران کے تصور سے تعبیر کرتے ہیں۔
ان کے مطابق سخت اقتصادی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور عالمی تنہائی کے باوجود ایران نے خطے میں اپنی سیاسی اور عسکری موجودگی برقرار رکھی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور اس کے اتحادی ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے اثرات کو اپنے لیے بڑا چیلنج سمجھتے ہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق مغربی طاقتوں کی جانب سے تہران پر دباؤ کا ایک مقصد ایران میں سیاسی تبدیلی کی راہ ہموار کرنا بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل محدود آبادی اور جغرافیائی حجم کے باعث طویل المدتی علاقائی بالادستی کے حوالے سے چیلنجز کا سامنا کر سکتا ہے، جب کہ ایران تقریباً نو کروڑ آبادی، وسیع رقبے اور علاقائی اثر و رسوخ کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں ایک اہم طاقت تصور کیا جاتا ہے۔






