پولیس کے مطابق ملزمہ کی گرفتاری منگل کی رات گئے گارڈن تھانے کی پولیس اور ایک سول انٹیلی جنس ادارے کی مشترکہ کارروائی کے دوران عمل میں آئی۔
سرکاری بیان میں کہا گیا کہ گرفتار خاتون کی شناخت انمول عرف پنکی کے نام سے ہوئی ہے، جو مبینہ طور پر کراچی کے مختلف علاقوں میں کوکین اور دیگر خطرناک منشیات کی سپلائی میں ملوث تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کئی مقدمات میں مفرور تھی اور اس کے قبضے سے ایک پستول، لاکھوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکلز اور دیگر منشیات برآمد کی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق ملزمہ کراچی میں ایک منظم اور وسیع منشیات سپلائی نیٹ ورک چلا رہی تھی۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ آن لائن ذرائع کے ذریعے کلفٹن، ڈی ایچ اے اور شہر کے دیگر علاقوں میں مخصوص رائیڈرز کے ذریعے منشیات فراہم کرتی تھی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ نیٹ ورک میں خواتین رائیڈرز کو بھی استعمال کیا جاتا تھا تاکہ کارروائیوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچایا جا سکے۔
پولیس حکام کے مطابق ملزمہ کے گاہکوں میں طلبہ سمیت بعض معروف شخصیات بھی شامل تھیں، جب کہ روزانہ لاکھوں روپے مالیت کی منشیات مختلف طریقوں سے فروخت کی جا رہی تھیں۔
پولیس نے بتایا کہ ملزمہ کے خلاف سندھ کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز ایکٹ 2024 اور سندھ آرمز ایکٹ 2013 کے تحت دو مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: انڈیا میں قبائلی شخص رقم نکلوانے کے لیے اپنی بہن کی قبر کھود کر ڈھانچہ بینک لے آیا، ،معاملہ کیا ہے؟
دوسری جانب یہ معاملہ اس وقت مزید توجہ کا مرکز بن گیا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں ملزمہ کو عدالت کے راہداری میں بغیر ہتھکڑی کے چلتے ہوئے دیکھا گیا۔
ویڈیو میں خاتون سن گلاسز پہنے اور ہاتھ میں پانی کی بوتل اٹھائے نظر آئی، جب کہ تفتیشی افسر اس کے پیچھے چل رہا تھا۔
اس واقعے پر کراچی کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آزاد خان نے نجی ٹی وی چینل پر نشر ہونے والی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے جنوبی زون کے ڈی آئی جی سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق ایڈیشنل آئی جی نے متعلقہ افسران کی ذمہ داریوں کے تعین کے لیے انکوائری کا حکم بھی دے دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ تمام پولیس افسران اور اہلکار قانون اور طے شدہ ضابطہ کار کے مطابق فرائض انجام دینے کے پابند ہیں، اور کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔







