اردو نیوز سے وابستہ صحافی ادیب یوسفزئی کے مطابق سال 2019 میں پنجاب یونیورسٹی کے کالج آف آرٹس اینڈ ڈیزائن سے گریجویشن مکمل کرنے والے مجسمہ ساز ارتباط الحسن نے سرمئی رنگ کا مخلوط انسانی و حیوانی ساخت کا حامل 16 فٹ اونچا مجسمہ تیار کیا تھا جسے لاہور عجائب گھر کے داخلی راستے پر نصب کیا گیا۔ اس کے بعد عوامی احتجاج ہوا اور لوگوں نے اسے  ایلومیناٹی، ڈرٹو اور شیطانیت  کے تصور سے تشبیہ دی۔ 

فائبر گلاس سے تیار شدہ یہ مجسمہ 5 ماہ میں تیار ہوا تھا جو ارتباط الحسن کی گریجویشن کا فائنل تھیسس تھا تاہم عوامی احتجاج اور ہائیکورٹ کے حکم پر اسے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس حوالے سے صحافی توقیر کھرل نے ایک سٹوری پر کام کیا تھا جس میں طالب علم ارتباط الحسن نے بتایا  گریجویشن کے اختتام پر میرے تھیسس کا عنوان  فیروسٹی  یعنی درندگی یا وحشی پن تھا۔ جن دنوں میں سکیچنگ کر رہا تھا ان ہی دنوں زینب قتل کیس چل رہا تھا۔ یہ ایسا واقعہ تھا جس نے میری راتوں کی نیندیں اڑا دیں تھیں اور میں سوچ رہا تھا کیا انسان واقعی اتنا وحشی ہوسکتا ہے؟ میں نے اس ہیبت ناک وحشی پن کو مجسمے میں دکھانے کی کوشش کی تو یہ مجسمہ بنایا۔ 

خیر، لوگوں کے ذہنوں میں ایک غلط فہمی گھر کر فےی تھی سو مجسمہ ہٹا دیا گیا۔ انسان ہر مثبت کام میں منفی اور ہر منفی کام میں مثبت پہلو نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سو یہاں بھی کچھ ایسا ہی سمجھیں۔ 

اب ایک نیا معاملہ سامنے آیا ہے۔ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ کراچی کے ایک علاقے میں  شیطان  کا ایک بڑا مجسمہ تیار کیا جا رہا ہے۔ ویڈیو میں تقریباً گیارہ فٹ لمبا ایک ڈھانچہ دکھایا گیا جو تھرموپول اور دیگر ہلکے مواد سے بنایا جا رہا تھا۔ ویڈیو کے ساتھ مختلف دعوے اور قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں جن میں بعض صارفین نے اسے  شیطان کی عبادت  سے جوڑ دیا جبکہ کچھ لوگوں نے مطالبہ کیا کہ اس عمل میں ملوث افراد کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔

ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ کئی صارفین نے اسے مذہبی اقدار کے خلاف قرار دیا جبکہ بعض لوگوں نے اس بارے حکام سے وضاحت کا مطالبہ کیا۔ اس صورتحال میں مقامی پولیس حرکت میں آئی اور اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دیں۔

کراچی پولیس حکام کے مطابق اس مجسمے کو تیار کرنے والے مجسمہ ساز سمیت تین افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس مجسمے کو بنانے کا مقصد کیا تھا اور اس کے پیچھے کون لوگ شامل ہیں۔

دراصل قصہ کچھ یوں ہے کہ موبائل ہم سب کے پاس ہے اور ہم معمولی سی چیز سے ہزارہا معانی نکالنے کے ماہر بھی ہیں۔ سو یہاں بھی ہم کسی سے پیچھے نہ رہے۔ کراچی اور دیگر علاقوں میں متعلقہ لوگوں سے رابطہ کرنے کے بعد چند چیزیں واضح ہوئی ہیں جس میں خاص طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس مجسمے کو کسی مذہبی عبادت یا عقیدت کے اظہار کے لیے نہیں بنایا جا رہا تھا بلکہ اس کے پیچھے ایک علامتی مقصد تھا۔

چند نوجوانوں نے ایک علامتی سرگرمی کے طور پر  برائی  کا مجسمہ تیار کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جسے بعد میں جلایا جانا تھا۔ اس طرح کی سرگرمی دنیا کے مختلف حصوں میں ایک علامتی احتجاج یا اظہار کے طور پر کی جاتی ہے جس میں برائی، ظلم یا معاشرتی خرابیوں کو بقول شخصے  شیطان  کی علامت کے طور پر پیش کر کے اسے آگ لگا دی جاتی ہے۔

اسی نوعیت کی مثالیں خطے کے دیگر ممالک میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ ایران میں بعض مواقع پر برائی کی علامت سمجھے جانے والے کرداروں کے مجسمے یا پتلے بنائے جاتے ہیں اور پھر انہیں عوامی سطح پر جلایا جاتا ہے۔ اس عمل کا مقصد یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ معاشرے میں موجود برائی، ظلم یا فساد کے عناصر کو ختم کیا جانا چاہیے۔ کراچی میں بھی ابتدائی معلومات کے مطابق اس مجسمے کو اسی علامتی روایت کے تحت تیار کیا جا رہا تھا۔ مقامی نوجوانوں کا ارادہ تھا کہ اس مجسمے کو  یوم القدس  کے موقع پر جلایا جائے تاکہ برائی اور منفی قوتوں کے خاتمے کا پیغام دیا جا سکے۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں جمعتہ الوداع کو یوم القدس منایا جاتا ہے۔

تاہم چونکہ ویڈیو کے ساتھ سیاق و سباق واضح نہیں تھا اس لیے سوشل میڈیا پر اسے مختلف انداز میں پیش کیا گیا اور یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید یہاں کسی غیر معمولی یا قابل اعتراض سرگرمی کی تیاری ہو رہی ہے۔ یہی 

ہم بارہا گزارش کرتے آرہے ہیں کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی کسی بھی ویڈیو یا دعوے کو فوری طور پر حتمی حقیقت سمجھنے کے بجائے اس کے پس منظر کو جانچنا ضروری ہوتا ہے۔ کئی بار ادھوری معلومات یا سیاق و سباق کے بغیر پھیلنے والی ویڈیوز غلط فہمیوں کو جنم دیتی ہیں اور غیر ضروری تنازع پیدا ہو جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے معاملات میں مصدقہ معلومات اور مکمل تحقیق کے بعد ہی کوئی رائے قائم کی جائے تاکہ غلط فہمیوں اور بے بنیاد دعوؤں سے بچا جا سکے۔

خاص طور پر میڈیا کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات کی رپورٹنگ میں سنسنی خیزی سے گریز کرے۔  شیطان پکڑا گیا  یا اس نوعیت کے جملوں سے ویوز تو مل جاتے ہیں لیکن بیک وقت حقیقت مسخ ہوجاتی ہے۔ مسلسل بریکنگ نیوز اور  سب سے پہلے  ہونے کی دوڑ کے دوران کئی بار خبر کی درستی اور سیاق و سباق کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں میڈیا کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ صحافتی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ کسی بھی واقعے کو درست معلومات، واضح پس منظر اور محتاط زبان کے ساتھ پیش کیا جائے تاکہ عوام سنسنی سے بچ سکے اور حقیقت تک رسائی آسان ہو۔