دعویٰ

11 ستمبر کو ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے فیس بک پر اُردو میں پوسٹ شیئر کی جس میں لکھا تھا: ”بڑی خوشخبری، فحاشی کا ایک باب بند ہوا، الحمدللہ پاکستان میں لائیو ٹک ٹاک پر پابندی لگا دی گئی ہمیشہ کے لیے۔“


اس پوسٹ کو اب تک 1 لاکھ 90 ہزار سے زائد لائکس، 11 ہزار 800 سے زیادہ کمنٹس اور 4 ہزار 200 سے زائد شیئرز مل چکے ہیں۔



اسی طرح کے دعوے X (سابقہ ٹوئٹر) اور انسٹاگرام پر بھی شیئر کیے گئے۔


حقیقت

پاکستان میں ٹک ٹاک لائیو ابھی تک متعارف نہیں کرایا گیا، اس لیے اس پر سرکاری پابندی کے دعوے درست نہیں ہیں۔


ٹک ٹاک کے ایک نمائندے نے جیو فیکٹ چیک کو ای میل میں واضح کیا کہ ”ٹک ٹاک لائیو فیچر پاکستان میں کبھی لانچ نہیں کیا گیا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ جو صارفین لائیو تک رسائی حاصل کرتے دکھائی دیتے ہیں وہ در حقیقت غیر رسمی طریقوں (workarounds) کے ذریعے ایسا کر رہے ہیں۔


نمائندے نے مزید کہا کہ پلیٹ فارم کے محفوظ استعمال کو یقینی بنانا ٹک ٹاک کی سب سے بڑی ترجیح ہے، اور کمپنی اپنی کمیونٹی گائیڈ لائنز کے مطابق خلاف ورزی کرنے والے مواد کو مسلسل ہٹا رہی ہے۔


اسلام آباد میں قائم تنظیم بائٹس فار آل (B4A) کے اوپن سورس انٹیلیجنس تجزیہ کار(OSINT) انیس قریشی نے جیو فیکٹ چیک سے کو بتایا کہ ٹک ٹاک لائیو فیچر اس وقت پاکستان میں جیو ری اسٹرکٹڈ (geo-restricted) ہے، یعنی اسے مقامی طور پر باضابطہ طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، انہوں نے وضاحت کی کہ بعض صارفین مختلف طریقوں سے اس فیچر تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں، مثلاً بین الاقوامی موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر (MVNO) کی سم جیسے گف گیف (Giff Gaff) استعمال کر کے، یا دیگر تکنیکی ذرائع کے ذریعے۔


فیصلہ: ٹک ٹاک لائیو کو TikTok کی جانب سے پاکستان میں کبھی باضابطہ طور پر متعارف نہیں کرایا گیا، لہٰذا اسے بین یا بلاک کیے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔