7 جون 2026 کو کوئٹہ کے ایک سرکاری اسپتال میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ہونے والا تیزاب حملہ اسی تلخ حقیقت کی تازہ مثال ہے۔ حملہ آور اسپتال کا ہی ایک ملازم تھا، لیکن اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر پاکستان میں عورتوں کے چہروں پر تیزاب پھینکنے کے واقعات کیوں رونما ہوتے ہیں اور ان کے پیچھے کارفرما سوچ کیا ہے؟

واقعے کے مطابق ملزم مبینہ طور پر ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے کمرے کے باہر کافی دیر تک انتظار کرتا رہا۔ جیسے ہی موقع ملا اس نے خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینک دیا۔

تیزاب ان کے چہرے اور جسم کے مختلف حصوں پر گرا جس کے بعد انہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔ بعد ازاں بہتر علاج کے لیے ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کیا گیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں خاتون ڈاکٹر کے چہرے اور جسم کے کئی حصے متاثر ہوئے، تاہم ڈاکٹروں نے بعد میں بتایا کہ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور خوش قسمتی سے ان کی بینائی مکمل طور پر متاثر نہیں ہوئی۔

اس خبر نے عوام کو وقتی طور پر اطمینان ضرور دیا، مگر اس واقعے نے کئی ایسے سوالات کو جنم دیا جو برسوں سے پاکستانی معاشرے کا تعاقب کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر ماہ نور ناصر کون ہیں اور حملے کی وجہ کیا تھی؟

پولیس اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور اسپتال کا لفٹ آپریٹر تھا۔ مختلف میڈیا رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی کہ ملزم خاتون ڈاکٹر میں ذاتی دلچسپی رکھتا تھا اور مبینہ طور پر اس کی جانب سے کی گئی پیش رفت یا رابطے کو قبول نہیں کیا گیا تھا۔

اگرچہ تحقیقات ابھی جاری ہیں، تاہم ابتدائی شواہد یہ اشارہ دیتے ہیں کہ یہ حملہ کسی پیشہ ورانہ تنازعے کے بجائے ذاتی انا، انتقامی سوچ اور مسترد کیے جانے کے ردعمل کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

یہی وہ پہلو ہے جو اس واقعے کو ایک فرد کے جرم سے بڑھا کر ایک بڑے سماجی مسئلے سے جوڑ دیتا ہے۔ پاکستان میں خواتین پر ہونے والے بہت سے تیزاب حملوں، قتل اور تشدد کے واقعات کے پیچھے ایک مشترک عنصر دکھائی دیتا ہے:  انکار ۔

رشتہ مسترد کرنا، دوستی قبول نہ کرنا، شادی سے انکار کرنا یا کسی کی خواہشات کے سامنے نہ جھکنا، بعض افراد کے لیے ایسا جرم بن جاتا ہے جس کی سزا وہ عورت کو زندگی بھر کے لیے دینا چاہتے ہیں۔

تیزاب گردی: قتل یا شناخت کو مٹانے کی کوشش؟

ماہرین نفسیات اور انسانی حقوق کے کارکن تیزاب حملوں کو  نفسیاتی دہشت گردی  کی بدترین شکل قرار دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ تیزاب پھینکنے والے اکثر متاثرہ فرد کو قتل نہیں کرنا چاہتے بلکہ وہ اس کی شناخت، خود اعتمادی اور سماجی زندگی کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے ایسے حملوں میں سب سے زیادہ نشانہ چہرہ بنتا ہے۔

چہرہ صرف جسم کا ایک حصہ نہیں بلکہ انسان کی شناخت، اعتماد اور سماجی تعلقات کا مرکز ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی عورت کے چہرے پر تیزاب پھینکتا ہے تو دراصل وہ اس کی ظاہری شکل ہی نہیں بلکہ اس کے خواب، پیشہ ورانہ زندگی، معاشرتی روابط اور نفسیاتی سکون کو بھی نشانہ بناتا ہے۔

یہ ایک خوفناک پیغام ہوتا ہے کہ اگر تم نے میری مرضی کے مطابق زندگی نہ گزاری تو میں تمہیں جینے تو دوں گا، لیکن سکون سے نہیں جینے دوں گا۔

پاکستان میں تیزاب گردی کتنی بڑی حقیقت ہے؟

پاکستان میں تیزاب گردی کے خلاف کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں میں ہزاروں خواتین اس جرم کا شکار ہو چکی ہیں۔

مختلف تحقیقی رپورٹس کے مطابق 1994 سے 2018 کے درمیان 9 ہزار سے زائد خواتین تیزاب حملوں کا شکار ہوئیں۔ اگرچہ قانون سازی اور آگاہی مہمات کے بعد ان واقعات میں مجموعی کمی آئی ہے، لیکن یہ مسئلہ اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ دیہی علاقوں میں بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

اپریل 2026 میں لاہور کے علاقے چونگ میں نویں جماعت کی ایک طالبہ پر مبینہ طور پر اس وقت تیزاب پھینکا گیا جب اس کے خاندان نے ایک رشتہ مسترد کر دیا تھا۔

اسی طرح ملک کے مختلف علاقوں میں خواتین کو شادی سے انکار، گھریلو تنازعات، جائیداد کے جھگڑوں یا ذاتی دشمنی کی بنیاد پر تیزاب کا نشانہ بنایا گیا۔

ان واقعات سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ مسئلہ صرف جرم کا نہیں بلکہ سوچ کا بھی ہے۔ ایک ایسی سوچ جو عورت کو ایک آزاد انسان کے بجائے ملکیت سمجھتی ہے اور اس کے فیصلے کے حق کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے۔

قانون کیا کہتا ہے؟

پاکستان میں تیزاب گردی کے خلاف قوانین گزشتہ برسوں میں سخت کیے گئے ہیں۔ مجرموں کو عمر قید اور بھاری جرمانوں جیسی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

کئی مقدمات میں عدالتوں نے سخت فیصلے سنائے جب کہ بعض واقعات میں ملزمان پولیس مقابلوں میں مارے بھی گئے۔

کوئٹہ واقعے میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کی اور ملزم کے خلاف آپریشن کیا گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف سزا مسئلے کا حل ہے؟

اگر ایک ملزم گرفتار یا ہلاک بھی ہو جائے تو کیا متاثرہ خاتون کی زندگی پہلے جیسی ہو جاتی ہے؟ کیا اس کے چہرے کے زخم ختم ہو جاتے ہیں؟ کیا وہ خوف، ڈپریشن اور سماجی دباؤ بھی ختم ہو جاتا ہے؟

جواب اکثر نفی میں ہوتا ہے۔ تیزاب گردی کے متاثرین کے لیے اصل جنگ حملے کے بعد شروع ہوتی ہے۔

کئی متاثرین کو درجنوں سرجریوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات علاج برسوں جاری رہتا ہے۔ جسمانی تکلیف کے ساتھ ساتھ شدید نفسیاتی دباؤ، ڈپریشن، سماجی تنہائی اور معاشی مشکلات ان کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔

بہت سی خواتین اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہیں۔ کئی ملازمت سے محروم ہو جاتی ہیں۔ بعض کو خاندان اور معاشرے کے رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اور پھر ایک سوال زندگی بھر ان کا پیچھا کرتا رہتا ہے کہ میرا قصور کیا تھا؟ 

اصل مسئلہ کہاں ہے؟

ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف قانون یا سکیورٹی کا نہیں بلکہ معاشرتی رویوں کا بھی ہے۔

جب کسی معاشرے میں انکار برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہو جائے، جب عورت کی مرضی کو اہمیت نہ دی جائے، جب مردانہ انا کو ہر قیمت پر درست سمجھا جائے، تو تشدد مختلف شکلوں میں سامنے آتا ہے۔

کبھی یہ گھریلو تشدد بنتا ہے، کبھی ہراسانی، کبھی قتل اور کبھی تیزاب گردی۔

ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر حملہ محض ایک مجرمانہ واقعہ نہیں بلکہ ایک سماجی آئینہ ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ترقی صرف عمارتوں، سڑکوں اور ٹیکنالوجی سے نہیں آتی بلکہ برداشت، احترام اور انسانی وقار کے تحفظ سے آتی ہے۔

جب تک عورت کے  نہیں  کہنے کے حق کو تسلیم نہیں کیا جاتا، جب تک انا کو انصاف پر ترجیح دی جاتی رہے گی اور جب تک تشدد کو مسئلے کا حل سمجھا جاتا رہے گا، ایسے واقعات مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکیں گے۔

شاید اسی لیے پاکستان میں تیزاب گردی کا ہر نیا واقعہ ایک ہی سوال دہراتا ہے کہ کیا واقعی ہمارے معاشرے میں عورت کو انکار کا حق حاصل ہے؟