دارالافتاء مصر کے مطابق چیٹ جی پی ٹی اور اس نوعیت کی دیگر مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز کے ذریعے قرآنِ کریم کی تفسیر کرنا مکمل طور پر ممنوع ہے۔
اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ کتابُ اللہ کو گمان اور قیاس آرائی سے محفوظ رکھا جائے اور اس کی تفسیر نہ تو بغیر علم کے کی جائے اور نہ ہی ایسی بات اس کی طرف منسوب کی جائے جو اہلِ علم سے ثابت نہ ہو۔
مصری دارالافتاء نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ اس ممانعت کا مقصد قرآن کے معانی پر گفتگو کو صرف ان مفسرین اور فقہاء تک محدود رکھنا ہے جو تفسیر کے معتبر اصولوں اور ضوابط پر پورا اترتے ہوں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ قرآنِ کریم کی تفسیر کے لیے مصنوعی ذہانت سے رجوع کرنا اس لیے بھی ممنوع ہے کہ اس میں سنگین شرعی اور منہجی خرابیاں پائی جاتی ہیں، جن میں سب سے نمایاں ماخذ کی غیر یقینی حیثیت اور نقل شدہ مواد کی صحت کی تصدیق کا ممکن نہ ہونا ہے۔
دارالافتاء کے مطابق مصنوعی ذہانت کے یہ نظام نہ تو اہلِ اختصاص کی جانب سے تیار کیے جاتے ہیں اور نہ ہی تفسیر کے کسی مستند اور منظم علمی منہج کی پابندی کرتے ہیں۔
دارالافتاء نے وضاحت کی کہ یہ نظام مختلف اور متنوع ذرائع سے جمع کیے گئے مواد کی خودکار پروسیسنگ پر مبنی جوابات فراہم کرتے ہیں، جن کا تعلق مختلف زبانوں، متضاد مناہج اور مختلف حوالہ جاتی پس منظر سے ہوتا ہے۔ اس میں تحریف شدہ یا مسخ شدہ مواد اور نااہل افراد کی آرا شامل ہونے کا بھی خدشہ رہتا ہے۔
اسی لیے دارالافتاء نے زور دیا کہ قرآنِ کریم کی آیات کی تفسیر اور معانی کے درست فہم کے لیے مستند تفسیری کتب سے رجوع کیا جائے یا ماہر اہلِ علم اور معتبر دینی اداروں سے دستیاب ذرائع کے ذریعے رہنمائی حاصل کی جائے، تاکہ کتابُ اللہ کی حفاظت، قرآنی علوم کی دیانت اور درست فہم کو یقینی بنایا جا سکے۔






