ماہرینِ آثارِ قدیمہ اس مقام پر اُس وقت غیر متوقع طور پر پہنچے جب وہ میکسیکو کے قصبے سان پیبلو ہوئیٹزو میں لوٹ مار سے متعلق ایک غیر مصدقہ رپورٹ کی تحقیق کر رہے تھے۔
حکام کے مطابق یہ دریافت ملک کی وزارتِ ثقافت کی جانب سے گزشتہ ایک دہائی کے دوران کی جانے والی سب سے اہم آثارِ قدیمہ کی دریافتوں میں سے ایک ہے۔
Carved stone figures, vivid mural paintings, and an owl carving guarding the entrance: 1,400-year-old Zapotec Tomb discovered in Southern Mexico pic.twitter.com/hj8gO5y44u
— Pakistan TV Digital (@PakistanTVcom) January 25, 2026
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقبرہ تقریباً 600 عیسوی سے تعلق رکھتا ہے، جو قدیم زیپوٹیک تہذیب (جسے "کلاؤڈ پیپلز" بھی کہا جاتا ہے) کے آغاز سے کچھ عرصہ قبل کا دور ہے۔
زیپوٹیک تہذیب تقریباً 700 عیسوی میں ابھری، 900 عیسوی کے بعد اس کا زوال شروع ہوا اور بالآخر 1521 عیسوی میں ہسپانوی حملوں کے نتیجے میں یہ تہذیب ختم ہو گئی۔ تاہم آج بھی تقریباً آٹھ لاکھ افراد خود کو زیپوٹیک نسل سے منسوب کرتے ہیں۔
مقبرے میں موجود باقیات کو غیر معمولی طور پر محفوظ حالت میں دیکھ کر ماہرین حیرت میں مبتلا ہو گئے۔
ان باقیات میں ایک الو کا مجسمہ شامل ہے، جس کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں اور جس کی چونچ اس دور کے کسی معزز شخص کے چہرے کو ڈھانپے ہوئے ہے۔
زیپوٹیک عقائد کے مطابق الو رات اور موت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔






