انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ وہ 2023 میں پاکستان سے کینیڈا روزگار کے لیے آئے اور یہاں وہ اپنی خالہ کے پاس رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ یہاں اپنے دوستوں کی کمی محسوس کرتے ہیں اگرچہ انہوں نے یہاں کچھ دوست بنائے ہیں جن میں ایک انڈین بھی ہے جو اکثر گوشت کے معاملے پر اس سے بحث کرتا رہتا ہے۔
اس کے علاوہ اُن کی ایک فلپائن سے دوست ہیں جن کا الگ ہی چل رہا ہے، وہ اپنی ہی انکل کے ساتھ ڈیٹنگ کر رہی ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ اب وہ اپنے پرانے دوستوں کو یاد کرتے ہیں، ان کے ساتھ گھومنا اور ان کی محفل انہیں کافی ستاتی ہے۔
اُس صارف کے سوال میں کئ بیرون ملک مقیم شہریوں نے اپنے جذبات کا اظہار کمنٹ سیکشن میں کیا، کافی سارے لوگوں نے ان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں اپنے دوست اور گھر یاد آتا ہے۔
ایک شہری نے لکھا کہ وہ 2021میں بہتر مواقع کی تلاش میں بیرونِ ملک چلے آئے۔ ابتدا میں انہیں سب کچھ نیا اور دلکش لگتا تھا۔مختلف زبان، نیا معاشرہ اور نئے دوست بنانے کی چاہت تھی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ انہیں اندرونی تنہائی کا احساس جکڑنے لگا۔
انہوں نے لکھا کہ یہاں کے لوگ اگرچہ بے حد خوش اخلاق اور مہمان نواز ہیں، مگر کبھی کبھار ثقافتی اور زبان کی رکاوٹیں اتنی نمایاں ہو جاتی ہیں کہ چاہ کر بھی دل میں اپنا پن محسوس نہیں ہوتا۔سبھی اچھے ہیں مگر پھر بھی میں ایک باہری ہونے کا احساس ہمیشہ رہتا ہے۔
انہوں نے مزاحیہ انداز میں یہ بھی لکھا کہ اگرچہ انہیں کسی پاگل فلیپینا جیسے قصے کا سامنا نہیں کرنا پڑا، لیکن ایک بار ان کا واسطہ ایک تھروپل (تین افراد پر مشتمل رومینٹک تعلق) سے ضرور پڑا، جو ان کے بقول ایک غیر معمولی مگر دلچسپ تجربہ تھا۔
ایک خاتون شہری جو بیرون ملک مقیم ہیں انہوں نے لکھا کہ اگرچہ وہ خود اس تنہائی کی عادی ہیں، لیکن ان کے شوہر کی سماجی زندگی ٹھیک ہے، وہ کبھی کبھار اپنے پاکستانی ساتھیوں کے ساتھ گھومنے جاتے ہیں، اور جب فارغ ہوں تو وہ اُن کےسوشل گروپ کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
ان کے مطابق، بیرونِ ملک آنے کے بعد دوستیوں اور میل جول کی کمی نے ان کے شوہر پر گہرا اثر ڈالا ہے۔پاکستان میں ان کے بہت سے دوست تھے، ہر وقت کوئی نہ کوئی ساتھ ہوتا تھا، مگر یہاں زندگی الگ تھلگ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے شوہر کے لیے افسوس محسوس کرتی ہیں اور کوشش کرتی ہیں کہ وہ نئے دوست بنا سکیں، مگر یہ اتنا آسان بھی نہیں ہے۔
ایک امریکی نژاد پاکستانی نے لکھا کہ وہ اگرچہ کیلیفورنیا میں پیدا ہوئے اور وہیں پلا بڑھے، لیکن پھر بھی انہیں ہر وقت پاکستان کی یاد آتی ہے۔
یہ بھی پرھیں: سعودی عرب میں 300 سے زائد پاکستانی مزدور لاوارث، تنخواہیں بند، اقامے معطل
ان کا کہنا تھا کہ آپ کو شاید کبھی ایسی جگہ نہیں ملتی جہاں سے آپ واقعی تعلق رکھتے ہوں، مگر بہتر یہی ہے کہ آپ جس جگہ ہیں، وہاں کے حالات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں ،آپ کو اچھے دوست ضرور مل جائیں گے۔
ایک پاکستانی شہری نے مزاحیہ انداز میں لکھا کہ بھائی انہیں تو پاکستان میں سوشل زندگی نہیں مل رہی ، اسی طرح ایک اور نے لکھا کہ آج کل سماجی زندگی کہیں نہیں ہے،یہ گویا اب مصروف بازار کی طرح ہے جہاں ایک لمحے میں سینکڑوں لوگوں سے ملاقات ہو جاتی ہے اور اگلے ہی لمحے سب کہیں اور ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اگرچہ بہتر زندگی گزار رہے ہوتے ہیں اس لحاظ سے کہ ان کے پاس روزگار اچھا ہوتا ہے بانسبت پاکستان کے مگر جن مشکلات اور تکالیف کا سامنا وہ کر رہے ہوتے ہیں وہ ناقابل بیاں ہے۔
اس کی حالیہ مثال سعودی عرب میں رہنے والے پاکستانیوں کی ہے جہاں ابھا نامی تعمیراتی کمپنی نے پاکستانی ورکرز کی کئی ماہ کی تنخواہ اور اقامے پھنسے ہوئے ہیں، جب کہ پاکستانی سفارتخانہ خاموش ہے۔
تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے شہر ابھا میں مقامی تعمیراتی کمپنی کے زیر انتظام کام کرنے والے 300 سے زائد پاکستانی مزدور گزشتہ کئی ماہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ کمپنی نے 10 ماہ قبل تنخواہیں بند کر دیں ہیں اور اقامے بھی ختم ہو چکے ہیں جن کی تجدید اب تک نہیں کی گئی۔ مزدوروں کے مطابق کچھ ادائیگیاں بینک اکاؤنٹس میں تو کی جاتی ہیں مگر اقامہ نہ ہونے کے باعث وہ رقم نکالنے سے قاصر ہیں۔
ورکرز کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اب اتنے وسائل بھی نہیں بچے کہ دو وقت کا کھانا خرید سکیں۔ سعودی حکومت نے عارضی طور پر فی کس 300 ریال فراہم کیے مگر وہ چند دنوں میں ختم ہو گئے۔ دوسری جانب نیپال اور فلپائن کے سفارتخانوں نے اپنے شہریوں کو قانونی مدد اور راشن فراہم کیا، جب کہ پاکستانی سفارتخانہ تاحال کوئی عملی اقدام نہیں کر سکا۔
متاثرہ پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ وہ مکمل بے بسی کی حالت میں ہیں۔ نہ تنخواہیں مل رہی ہیں نہ اقامے تجدید ہوئے ہیں اور نہ واپسی کا بندوبست ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت پاکستان فوری طور پر ان کی واپسی اور واجبات کی ادائیگی کے لیے اقدامات کرے تاکہ وہ اپنے خاندانوں کے ساتھ واپس جا سکیں۔
ورکرز نے وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سیکریٹری خارجہ سے اپیل کی ہے کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیں اور ابھا میں پھنسے پاکستانیوں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔
یاد رہے کہ اگرچہ بیرونِ ملک پاکستانی زندگی کے بہتر مواقع سے لطف اندوز تو ہوتے ہیں، لیکن اندرونی طور پر انہیں شناخت، تعلق اور سماجی رشتوں کے خلا کا سامنا رہتا ہے۔







