وزیراعلی کے مطابق اس منصوبے کے تحت سی سی ڈی کو دنیا کے پانچ بہترین جرائم کنٹرول کرنے والے اداروں کی طرز پر استوار کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ یہ ادارہ گزشتہ سال اپریل میں قائم کیا گیا تھا، جسے خاص طور پر  قتل، ڈکیتی، ریپ، منشیات فروشی، زمینوں پر قبضہ، اغوا اور بھتہ خوری جیسے جرائم پر قابو پانے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا، جب کہ حکام کا دعویٰ ہے کہ سی سی ڈی کی کارروائیوں سے قتل کے مقدمات میں 43 فیصد اور ڈکیتیوں میں 77 فیصد تک کمی آئی ہے، جس کی بنیاد پر اسے مزید بااختیار بنایا جا رہا ہے۔

جس کے تحت سی سی ڈی کوماڈرن لیبز، ٹیکنالوجی، اے آئی ، ماڈرن سرویلنس سسٹم، ماڈرن مشینری اور آلات سے لیس کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ مجرموں کا سراغ لگانے اور ان کی نگرانی کے لیے جدید ترین آلات فراہم کیے جائیں گے، جب کہ جدید سہولتوں سے آراستہ مرکزی ہیڈکوارٹر کے قیام کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔اسی منصوبے کے تحت پنجاب کے ہر ڈویژن، ضلع اور تحصیل میں سی سی ڈی کے دفاتر، تھانے اور رہائش گاہیں قائم کی جائیں گی۔ 

تاہم فروری 2026 میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے جاری رپورٹس نے اس ادارے کی کارکردگی اور اختیارات پر کئی سوالات اٹھا ئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ صرف آٹھ مہینوں کے دوران اس فورس نے 670 مبینہ مقابلوں میں 924 افراد کو ہلاک کیا۔

اس کے علاوہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اس فورس کو سیاسی مخالفین کو دبانے یا ’’ٹارگٹڈ آپریشنز‘‘ کے نام پر ہراساں کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایسی فورسز کے لیے کوئی واضح اور آزادانہ احتسابی نظام موجود نہیں، جس کی وجہ سے اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال کی صورت میں متاثرہ شہری کے لیے انصاف حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ہیومن رائٹس رپورٹ میں یہ اعتراض بھی اٹھایا گیا کہ سی سی ڈی کو ایف آئی آر درج کرنے اور تھانے قائم کرنے کے جو خودمختار اختیارات دیے گئے ہیں، وہ موجودہ پولیس ایکٹ کے ساتھ تضاد پیدا کر سکتے ہیں، جس سے قانونی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں۔

اگرچہ سی سی ڈی نے رپورٹ میں لگائے گئے جعلی پولیس مقابلوں اور ماورائے عدالت قتل کے الزامات کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا مگر انسانی حقوق کی تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں نے سی سی ڈی کے اعداد و شمار پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ برقرار رکھا ہے۔

یاد رہے کہ اس وقت پنجاب پولیس کے علاوہ سی سی ڈی، سی ٹی ڈی، ایلیٹ فورس، ڈولفن فورس، اسپیشل پروٹیکشن یونٹ، اینٹی رائٹ فورس، کاؤنٹر نارکوٹکس فورس اور متعدد خصوصی برانچز کام کر رہی ہیں۔

دوسری جانب عام شہریوں کے ذہن میں بھی یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ پنجاب پولیس کے ہوتے ہوئے صوبے بھر میں مختلف خصوصی فورسز کی تعداد کیوں بڑھائی جا رہی ہے اور کسی ایک فورس کو مضبوط بنانے پر توجہ کیوں نہیں دی جا رہی۔