یہ مختصر ترین جنگ 25 اگست 1896 کے بعد پیش آنے والے واقعات کا نتیجہ تھی، جب افریقہ کے جزیرے زنجبار کے برطانوی حمایت یافتہ سلطان حمد بن ثوینی کا اچانک انتقال ہو گیا۔
قانون کے مطابق نئے سلطان کا تقرر برطانیہ کی منظوری سے ہونا تھا، لیکن مرحوم سلطان کے بھتیجے خالد بن برقاش نے اس عمل کو نظر انداز کرتے ہوئے تخت پر قبضہ کر لیا۔
برطانیہ نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے خالد بن برقاش کو الٹی میٹم دیا کہ وہ اگلی صبح 9 بجے تک محل خالی کر دیں، بصورت دیگر کارروائی کی جائے گی۔ تاہم خالد بن برقاش نے اس انتباہ کو سنجیدہ نہ لیا اور مزاحمت کا اعلان کر دیا۔
27 اگست 1896 کی صبح 9 بج کر 2 منٹ پر برطانوی بحریہ نے کارروائی کا آغاز کیا۔ اس وقت برطانیہ کے پانچ جنگی جہاز ساحل کے قریب موجود تھے، جبکہ محل کے دفاع کے لیے تقریباً 2800 سپاہی اور ایک پرانی کشتی "گلاسگو" تعینات تھی۔
برطانوی افواج کی شدید گولہ باری کے نتیجے میں محل کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ کشتی "گلاسگو" بھی چند ہی منٹوں میں تباہ ہو گئی۔ حملے کے دوران ہر طرف دھواں اور افراتفری پھیل گئی، اور زنجبار کی افواج مؤثر مزاحمت نہ کر سکیں۔
کارروائی کے آغاز کے تقریباً 38 منٹ بعد، یعنی صبح 9 بج کر 40 منٹ پر فائرنگ روک دی گئی اور محل پر موجود جھنڈا گرا دیا گیا۔ خالد بن برقاش اس دوران محل کے پچھلے راستے سے فرار ہو کر جرمن سفارت خانے پہنچ گئے۔
اس جنگ میں برطانیہ کا صرف ایک اہلکار زخمی ہوا، جبکہ سلطنتِ زنجبار کے 500 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ بعد ازاں برطانیہ نے اپنے حمایت یافتہ سلطان حمود کو تخت پر بٹھا دیا، یوں یہ جنگ اختتام پذیر ہوئی۔
یہ واقعہ تاریخ میں مختصر ترین جنگ کے طور پر درج ہے، جسے گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ موجودہ دور میں زنجبار مشرقی افریقہ کے ملک تنزانیہ کا ایک نیم خودمختار حصہ ہے۔






