پاکستان میٹرز فیکٹ چیک ٹیم کے مطابق یہ معاملہ 11 ستمبر 2025 کو شروع ہوا، جب ایک خاتون صارف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” (سابق ٹوئٹر) پر مذکورہ تصویر شیئر کرتے ہوئے طنزیہ کیپشن لکھا کہ بندہ تو واش روم پہنچتے پہنچتے یہ بھی بھول جاتا ہے کہ آیا کس لیے تھا، اسے کہتے ہیں وژن۔

پوسٹ دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی اور 41 ہزار سے زائد صارفین تک پہنچی۔ بعد ازاں پی ٹی آئی رہنما شہباز گل نے بھی یہ تصویر اپنے اکاؤنٹ سے شیئر کی جسے 24 ہزار بار دیکھا گیا، تاہم سخت تنقید کے بعد پوسٹ ڈیلیٹ کردی گئی۔ دیگر حامی اکاؤنٹس نے بھی یہی تصویر شیئر کی، جس نے مجموعی طور پر 54 ہزار سے زائد ویوز حاصل کیے۔

Maryam nawaz ii
تصویر میں واضح چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔ (فوٹو: فائل)

دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی بھی پوسٹ میں یہ وضاحت موجود نہیں تھی کہ تصویر کہاں اور کب لی گئی۔ اس دوران وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز پہلے ہی اپوزیشن کی تنقید کی زد میں تھیں، خصوصاً سیلاب 2025 کے دوران ریلیف گڈز پر ان کی تصاویر چھاپنے اور منڈی بہاؤالدین کی ایک مسجد پر ان کی تصویر آویزاں کرنے کے معاملے پر۔

آئی ویری فائی پاکستان نے تصویر کی حقیقت جانچنے کے لیے جدید امیج ویریفیکیشن ٹولز استعمال کیے۔ رپورٹ کے مطابق تصویر میں واضح چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: بی بی سی کی ’وائرل گرل رپورٹر‘ پر برطانوی نشریاتی ادارے کی وضاحت، معاملہ کیا ہے؟

مریم نواز کی تصویر سفید بیک گراؤنڈ کے ساتھ الگ سے چسپاں کی گئی تھی۔ چار دروازوں میں صرف تین پر تصاویر تھیں، جب کہ ایک کا رنگ مختلف تھا۔ دروازوں کے فاصلے اور ڈیزائن غیر معمولی اور عملی طور پر ناممکن دکھائی دیے۔ مزید یہ کہ دروازوں کے نوّب بھی مختلف پوزیشن پر تھے۔

Maryam nawaz iii
مریم نواز کی تصاویر لاہور کے ایک عوامی مقام پر ٹوائلٹ کے دروازوں پر آویزاں ہیں۔ (فوٹو: فائل)

رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ تصویر فوٹوشاپ یا دیگر ایڈیٹنگ سافٹ ویئر کے ذریعے بنائی گئی ہے اور اس کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ سوشل میڈیا پر کس طرح جھوٹی اور گمراہ کن پوسٹس تیزی سے وائرل کی جاتی ہیں۔ صارفین کو چاہیے کہ کسی بھی خبر یا تصویر پر یقین کرنے سے پہلے مستند ذرائع سے تصدیق کریں۔