رپورٹس کے مطابق دنیا کے سب سے بڑے چمپینزی گروہوں میں شمار ہونے والا یہ گروہ اب دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے، اور دونوں کے درمیان مسلسل لڑائی جاری ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ وہی چمپینزی ہیں جو کبھی ایک ساتھ رہتے، کھاتے، سوتے اور کھیلتے تھے۔

سائنسدانوں کے مطابق سنہ 2018 سے اب تک اس تنازع میں کم از کم 24 چمپینزی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 17 بچے بھی شامل ہیں۔

تحقیق کے مرکزی محقق ایئرن سینڈل کے مطابق ایک وقت تھا جب یہ چمپینزی باہمی ہم آہنگی کے ساتھ رہتے تھے، لیکن اب وہ ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چمپینزی اپنے علاقے کے معاملے میں انتہائی حساس ہوتے ہیں اور اجنبی گروہوں کو برداشت نہیں کرتے، جس کے باعث اکثر جھگڑے جنم لیتے ہیں۔

تاہم اس واقعے میں اہم بات یہ ہے کہ یہ چمپینزی ابتدا سے الگ نہیں تھے۔ کئی دہائیوں تک تقریباً 200 چمپینزی ایک ساتھ رہتے رہے، اگرچہ وہ مغربی اور وسطی ذیلی گروہوں میں تقسیم تھے، مگر اس نوعیت کی خونریزی نہیں دیکھی گئی تھی۔

سنہ 2015 میں پہلی بار کشیدگی اس وقت سامنے آئی جب ایک گروہ نے دوسرے کا پیچھا کیا اور انہیں علاقہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ ابتدا میں سائنسدانوں نے اسے معمول کا تنازع سمجھا، کیونکہ چمپینزیوں میں اس طرح کے جھگڑے عام ہوتے ہیں اور وہ بعد ازاں دوبارہ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔

تاہم اس بار صورتحال مختلف رہی، کیونکہ اس واقعے کے بعد دونوں گروہ چھ ہفتوں تک الگ رہے اور پھر فاصلہ بڑھتا گیا۔

سنہ 2018 تک یہ اختلافات باقاعدہ جنگ میں تبدیل ہو گئے۔ تحقیق کے مطابق اس کے بعد منظم حملے شروع ہوئے، جن میں ایک گروہ منصوبہ بندی کے تحت دوسرے پر حملہ کرتا رہا۔

ان حملوں میں 7 بالغ نر اور 17 بچے مارے گئے، جبکہ ماہرین کے مطابق ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تصادم کی ممکنہ وجوہات میں وسائل پر قبضہ، طاقت اور قیادت کی کشمکش، اور افزائشِ نسل کے لیے مقابلہ شامل ہیں، جو کسی حد تک انسانی معاشروں سے مماثلت رکھتے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ تحقیق ایک اہم نکتہ اجاگر کرتی ہے کہ چمپینزی، جو انسانوں کے قریب ترین جینیاتی رشتہ دار ہیں، مذہب، سیاست یا نسل جیسے تصورات کے بغیر بھی شدید تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جھگڑوں کی جڑ صرف نظریات نہیں بلکہ باہمی تعلقات میں دراڑ بھی ہو سکتی ہے۔