میڈیا رپورٹس کے مطابق مصباح الحق نے استعفیٰ پی سی بی کو ارسال کردیا ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ باضابطہ طور پر عہدہ چھوڑنے سے قبل اپنا نوٹس پیریڈ مکمل کریں گے۔
مصباح الحق کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی سی بی نے انگلینڈ کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ سے قبل قومی ٹیسٹ اسکواڈ اور کوچنگ اسٹاف میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مصباح الحق اسکواڈ میں ہونے والی بڑی تعداد میں تبدیلیوں کے طریقہ کار سے خوش نہیں تھے۔ انہیں خصوصاً تیسرے ٹیسٹ سے قبل 7 کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے ریلیز کیے جانے پر تحفظات تھے۔
پی سی بی نے پیر کو انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کے لیے قومی اسکواڈ سے 7 کھلاڑیوں کو ریلیز کرتے ہوئے ان کے متبادل کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کیا تھا، جبکہ کوچنگ اسٹاف میں بھی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔
ریڈ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور فاسٹ بولنگ کوچ عمر گل کو ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا، جبکہ وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور بولنگ کوچ ایشلے نوفکے کو تیسرے ٹیسٹ کے لیے ٹیم کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
سرفراز احمد کو 18 اپریل کو ریڈ بال ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا تھا۔ ان کی نگرانی میں پاکستان نے بنگلہ دیش کا دو ٹیسٹ میچز پر مشتمل دورہ کیا، جہاں قومی ٹیم کو سیریز میں 2-0 سے شکست ہوئی۔
اس کے بعد ویسٹ انڈیز کے خلاف دو ٹیسٹ میچز کی سیریز 1-1 سے برابر رہی، جبکہ انگلینڈ کے خلاف موجودہ تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں قومی ٹیم کو پہلے ہی 0-2 کے خسارے کا سامنا ہے۔
سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ 9 سے 13 ستمبر تک برمنگھم کے ایجبسٹن گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا۔
مصباح الحق پاکستان کی قومی ٹیم کی تینوں فارمیٹس میں کپتانی کرچکے ہیں۔ وہ قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کی ذمہ داری بھی سنبھال چکے ہیں اور اس وقت قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔







