ویڈیو میں ایک نوجوان گاڑی کی ٹیکنالوجی کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، تاہم اسی دوران گاڑی سڑک کنارے کھڑی پولیس وین سے ٹکرا جاتی ہے۔

گاڑی کو ریموٹلی کنٹرول کرنے والے نوجوان احسان ظفر عباسی کے مطابق وہ ایبٹ آباد میں کامسیٹس یونیورسٹی کے کمپیوٹر انجینیئرنگ پروگرام کے طالب علم ہیں اور اس سے قبل بھی ریموٹ کنٹرول گاڑی تیار کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گاڑی انٹرنیٹ کے ذریعے موبائل فون یا کمپیوٹر میں موجود ایک ایپلی کیشن سے منسلک ہوتی ہے، جبکہ گاڑی کی چھت پر 360 ڈگری کیمرہ نصب ہے، جس کی مدد سے آپریٹر گاڑی کے اردگرد کا منظر دیکھ کر اسے چلانے، روکنے اور موڑنے کی ہدایات دیتا ہے۔

احسان ظفر کے مطابق حادثے کے وقت وہ گاڑی سے تقریباً 100 میٹر دور کھڑے تھے۔ کیمرہ مین کی ہدایت پر وہ چند سیکنڈ کے لیے اپنا موبائل کیمرے کی طرف کرنے لگے اور اسی دوران گاڑی کو دائیں موڑنے کے بجائے غلطی سے بائیں موڑنے والا بٹن دبا دیا۔

ان کے مطابق اسی غلطی کے باعث گاڑی پولیس وین سے جا ٹکرائی۔ احسان ظفر کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد پولیس اہلکاروں نے ان کا مؤقف سنا اور پولیس وین کی ڈینٹنگ اور پینٹنگ کے اخراجات کی رقم ادا کرنے کے بعد ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔

اسلام آباد پولیس کے ایس پی سٹی زون ڈاکٹر ایاز حسین نے بھی واقعے کو انسانی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کے دوران کسی جرم کے شواہد نہیں ملے۔ ان کے مطابق نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں اور پولیس ایسے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

احسان ظفر کا کہنا ہے کہ گاڑی میں یہ پروگرام بھی شامل کیا گیا ہے کہ اگر انٹرنیٹ کنکشن منقطع ہو جائے تو گاڑی خود بخود رک جائے۔

واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے نوجوان کی ٹیکنالوجی اور اس حادثے پر مختلف انداز میں تبصرے کیے۔ کئی صارفین نے نوجوان کی صلاحیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے منصوبوں پر کام کرنے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، جبکہ کچھ نے حادثے کو طنز و مزاح کا موضوع بھی بنا لیا۔