اپنی جماعت کے سالانہ اجلاس میں بیڈنوک کا کہنا تھا کہ گھر کی ملکیت ہر شخص کا خواب ہونا چاہیے اور اسٹامپ ڈیوٹی کا خاتمہ اسی خواب کو حقیقت میں بدلنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکس ختم کرنے سے نوجوان پیشہ ور افراد، نئی شادی شدہ جوڑوں اور بڑھتی ہوئی فیملیز کو اپنا گھر حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔
کیمی بیڈنوک نے اپنی 45 منٹ کی خطاب میں کہاکہ یہ ایک غیر منصفانہ ٹیکس ہے۔ ہمیں ہاؤسنگ مارکیٹ کو آزاد کرنا ہوگا، کیونکہ وہ معاشرہ جہاں لوگ خرید یا منتقل نہیں ہو سکتے، وہاں سماجی ترقی ختم ہو جاتی ہے۔
ان کے اس اعلان پر مانچسٹر کے کانفرنس ہال میں پارٹی کارکنان نے کھڑے ہو کر زبردست تالیاں بجائیں۔
بیڈنوک نے اپنی تقریر میں متعدد نئے پالیسی اعلانات بھی کیے جن میں بزنس ریٹس کا خاتمہ تاکہ ہائی اسٹریٹس کو فروغ ملے، بجلی پر کاربن ٹیکس کا خاتمہ، جرائم کے ہاٹ اسپاٹس میں پولیس کی اسٹاپ اینڈ سرچ کارروائیاں تین گنا بڑھانا، ’غیر مؤثر‘ یونیورسٹی کورسز بند کر کے تربیتی پروگرامز میں اضافہ شامل ہیں۔
ان کے علاوہ فیملی فارم ٹیکس کا خاتمہ، فلاحی اخراجات میں کمی اور برطانیہ کو یورپی کنونشن آن ہیومن رائٹس سے نکالنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔
مزید پڑھیں: ماؤنٹ ایورسٹ کے قریب برفانی طوفان میں سیکنڑوں سیاح پھنس گئے، ایک سیاح ہلاک
بیڈنوک نے اپنی تقریر میں لیبر حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سر کیئر اسٹرمر ایک کمزور اور بے سمت حکومت چلا رہے ہیں، جس نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کنزرویٹو پارٹی اب نئی قیادت کے تحت ایک بولڈ اور فیصلہ کن راستہ اختیار کرے گی تاکہ برطانیہ کو معاشی و سماجی طور پر مستحکم کیا جا سکے۔
کنزرویٹو پارٹی کے مطابق اس اقدام سے قومی خزانے کو سالانہ تقریباً 9 ارب پاؤنڈ کا نقصان ہوگا، تاہم پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ خسارہ 2029 تک 50 ارب پاؤنڈ کی حکومتی اخراجات میں کمی سے پورا کیا جائے گا۔
اسٹامپ ڈیوٹی صرف بنیادی رہائش گاہوں کے لیے ختم کی جائے گی، جب کہ اضافی جائیدادوں، کمپنیوں اور غیر ملکی خریداروں پر یہ ٹیکس برقرار رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کے شہزادے ہیری پر ہراسانی کے الزامات کیوں لگائے جا رہے ہیں؟
ماہرین کے مطابق اسٹامپ ڈیوٹی کے خاتمے سے ہاؤسنگ مارکیٹ میں تیزی آئے گی، تاہم اس سے حکومتی محصولات پر دباؤ بھی بڑھے گا۔
دوسری جانب وزیر خزانہ ریچل ریوز بھی جائیداد پر ٹیکس کے نظام میں تبدیلی پر غور کر رہی ہیں لیکن ذرائع کے مطابق اس سال کے بجٹ میں کوئی بڑا فیصلہ متوقع نہیں۔







