ذرائع  کے مطابق فوجیوں کے تابوت امریکی ریاست ڈیلاویئر میں قائم ڈوور فضائی فوجی اڈے پر فوجی طیارے کے ذریعے لائے گئے۔ تابوت قومی پرچم میں لپٹے ہوئے تھے اور فوجی دستے نے انہیں انتہائی احترام کے ساتھ طیارے سے اتارا۔ اس موقع پر موجود اہلکاروں نے باقاعدہ سلامی بھی پیش کی۔

تقریب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہر تابوت کے اتارے جانے کے وقت احتراماً کھڑے رہے اور سلامی پیش کی۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اور مسلح افواج کی اعلیٰ کمیٹی کے سربراہ جنرل ڈین کین سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

 یہ فوجی گزشتہ اتوار کو کویت میں قائم ایک اہم امریکی فوجی کمان مرکز پر ایرانی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا گیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجیوں میں پانچ مرد اور ایک خاتون شامل تھیں جن کی عمریں بیس سے پچاس برس کے درمیان تھیں۔ یہ تمام اہلکار امریکی ریزرو فوج کا حصہ تھے اور ان کی ذمہ داری فوجیوں کو خوراک، ایندھن، سازوسامان اور اسلحہ فراہم کرنا تھی۔

مزید پڑھیں: پاسدارانِ انقلاب کے جو اہلکار ہتھیار ڈال دیں گے انہیں نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، اسرائیلی وزیرِاعظم

امریکی فوج میں فوجیوں کی لاشوں  کی وطن واپسی ایک باوقار فوجی روایت سمجھی جاتی ہے۔ اس عمل کے تحت تابوتوں کو فوجی اعزاز کے ساتھ منتقل کیا جاتا ہے اور بعد ازاں طبی ماہرین شناخت کا عمل مکمل کرنے کے بعد میتیں اہلِ خانہ کے حوالے کر دی جاتی ہیں تاکہ تدفین مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ کی جا سکے۔

دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں کو ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازع کے باعث سکیورٹی خدشات کا سامنا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی مفادات یا فوجیوں کو مزید نشانہ بنایا گیا تو امریکا سخت جواب دے گا۔