برطانوی شاہی محل بکنہم پیلس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ شہزادہ اینڈریو کے تمام شاہی عہدے، القابات اور اعزازات واپس لیے جا رہے ہیں اور اُنہیں ونڈسر کی رہائش گاہ سے بھی منتقل ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ اقدامات ضروری سمجھے گئے ہیں، اگرچہ وہ اپنے خلاف الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ شاہی جوڑا اُن تمام متاثرین اور زندہ بچ جانے والوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرتا ہے جو کسی بھی قسم کے استحصال یا بدسلوکی کا شکار ہوئے ہیں۔
شاہ چارلس نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب امریکی مجرم جیفری ایپسٹین اور گِزلین میک ویل سے شہزادہ اینڈریو کے تعلقات پر ایک بار پھر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا۔ ایپسٹین کی متاثرہ خاتون ورجینیا جیفری کی جانب سے نئی یادداشتوں میں شہزادہ اینڈریو پر 17 سال کی عمر میں جنسی استحصال کے سنگین الزامات دہرائے گئے ہیں۔
ورجینیا جیفری، جو اپریل میں 41 سال کی عمر میں وفات پا گئیں، کے اہل خانہ نے بادشاہ کے فیصلے کو انصاف کی جیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج ایک عام امریکی لڑکی نے اپنی سچائی اور ہمت سے ایک برطانوی شہزادے کو نیچے اتارا۔
Charles has now escalated his actions against Andrew by stripping him of all his titles, leaving him to be known as Andrew Mountbatten Windsor. pic.twitter.com/pRWwxib0Az
— The Star (@staronline) October 31, 2025
ذرائع کے مطابق شہزادہ اینڈریو نے بادشاہ کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں کیا، جب کہ برطانوی حکومت کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق اینڈریو کو ونڈسر کی رہائش گاہ رائل لاج سے نکال کر اب سینڈرنگھم اسٹیٹ میں منتقل کیا جائے گا، جہاں اُن کے تمام اخراجات بادشاہ چارلس ذاتی طور پر برداشت کریں گے۔ اُن کی سابقہ اہلیہ سارہ فرگوسن اپنی رہائش کے لیے علیحدہ انتظامات کریں گی۔
شہزادہ اینڈریو پر پہلے بھی جنسی استحصال کے مقدمے میں امریکی عدالت میں تصفیے کے تحت لاکھوں ڈالر ادا کرنے کا انکشاف ہوچکا ہے۔
حالیہ انکشافات کے مطابق اینڈریو نے نہ صرف ایپسٹین اور میک ویل کو بلکہ بدنام زمانہ ہالی وڈ پروڈیوسر ہاروی وائن اسٹین کو بھی 2006 میں اپنی بیٹی بیٹریس کی سالگرہ پر رائل لاج میں مدعو کیا تھا۔
عوامی غصے میں اضافہ اس وقت ہوا جب ایک تقریب کے دوران بادشاہ چارلس سے ایک شہری نے بلند آواز میں سوال کیا کہ آپ کو اینڈریو اور ایپسٹین کے بارے میں کب سے علم تھا؟
واضح رہے کہ اینڈریو ملکہ الزبتھ دوم کے دوسرے صاحبزادے ہیں، اب شاہی خاندان سے باضابطہ طور پر علیحدہ ہو گئے ہیں، تاہم اُن کی بیٹیاں شہزادی بیٹریس اور شہزادی یوجینی اپنے القابات برقرار رکھیں گی۔







