برطانوی میڈیا کے مطابق لندن ہائی کورٹ میں نجی معلومات کی خلاف ورزی سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران شہزادہ ہیری بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آبدیدہ ہو گئے۔

بھرا ہوا لہجہ اختیار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈیلی میل اور اس کے ناشر ادارے ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز نے ان کی اہلیہ میگھن مارکل کی زندگی کو شدید اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔

عدالت میں بیان دیتے ہوئے شہزادہ ہیری نے مزید کہا کہ 2022 میں مقدمہ دائر کرنے کے بعد ان کے خلاف میڈیا کا رویہ مزید جارحانہ ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اخبار کے مالکان سے صرف معافی اور جوابدہی چاہتے تھے، مگر اس کے بجائے انہیں ایک بار پھر اسی اذیت ناک تجربے سے گزارا جا رہا ہے۔

شہزادہ ہیری نے ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز کے دفاع کو قابلِ نفرت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے اپنی نجی زندگی کے تحفظ کا بنیادی حق چھینا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں کھڑے ہو کر ان تمام واقعات کا دوبارہ سامنا کرنا ایک بار پھر صدمے کو دہرانے کے مترادف ہے۔

دوسری جانب ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کے صحافیوں نے جائز ذرائع، بشمول مشہور شخصیات کے قریبی حلقوں، سے معلومات حاصل کیں۔

تاہم شہزادہ ہیری نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کسی صحافی کے ساتھ کوئی ذاتی تعلق نہیں رہا۔

یہ مقدمہ لندن ہائی کورٹ میں نو ہفتوں تک جاری رہے گا، جبکہ اداکارہ الزبتھ ہرلی جمعرات کو عدالت میں گواہی دیں گی۔

واضح رہے کہ 41 سالہ ڈیوک آف سسیکس شہزادہ ہیری اور دیگر چھ مدعیان، جن میں معروف گلوکار ایلٹن جان بھی شامل ہیں، ڈیلی میل کے ناشر ادارے کے خلاف مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ اخبار پر الزام ہے کہ اس نے ان کی نجی زندگی میں غیرقانونی مداخلت کی، جس میں فون ہیکنگ، خفیہ نگرانی اور دھوکے سے معلومات حاصل کرنا شامل ہے۔