خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ریگولیٹر ادارے کا کہنا تھا کہ تینوں کمپنیوں نے ’پائیدار‘، ’پائیدار مواد‘ اور ’پائیدار انداز‘ جیسے الفاظ بغیر واضحات اور قابلِ تصدیق ثبوت کے استعمال کیے، جس سے لوگوں میں ان مصنوعات کے اصل ماحولیاتی اثرات کے بارے میں غلط فہمی پیدا ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق جون میں گوگل پر جاری کیے گئے ایک اشتہار میں نائکی نے ’پائیدار مواد‘ سے بنائی گئی ٹینس پولو شرٹس کی تشہیر کی تھی۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ یہ اصطلاح عمومی تھی اور ری سائیکل شدہ پالئیےسٹر سے تیار کردہ مصنوعات کی طرف اشارہ کرتی تھی۔
Nike, Superdry and Lacoste ads banned over misleading green claims https://t.co/2El0t84fpc
— BBC News (UK) (@BBCNews) December 3, 2025
تاہم اے ایس اے نے کہا کہ یہ دعویٰ مطلق نوعیت کا تھا اور اس کے لیے ٹھوس سائنسی ثبوت ضروری تھے۔ ادارے کے مطابق نائکی یہ بتانے میں ناکام رہی کہ یہ شرٹس واقعی ماحول پر بہت کم یا نہ ہونے کے برابر اثرات ڈالتی ہیں۔
نائکی نے کہا کہ وہ اے ایس اے کے ساتھ رابطے میں ہے اور ضروری اقدامات کر رہی ہے، اور یہ کہ ہم صارفین کو صاف، درست اور واضح معلومات مہیا کرنے کے لیے پُرعزم ہیں تاکہ وہ بہتر فیصلے کر سکیں۔
جون میں ہی جاری کیے گئے سپرڈری کے ایک اشتہار میں پائیدار انداز کا جملہ استعمال کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا کہ فیشن اور پائیداری کو یکجا کرکے ایک ذمہ دار انتخاب پیش کیا جا رہا ہے۔
کمپنی کا کہنا تھا کہ یہ دعویٰ اُن کلیکشنز کے لیے تھا جن میں پائیدار ذرائع سے حاصل کردہ مواد استعمال کیا گیا تھا اور اس سے یہ تاثر نہیں ملتا تھا کہ سپرڈری کی تمام مصنوعات پائیدار ہیں۔
Nike, Lacoste e Superdry: poca sostenibilità, molto greenwashing https://t.co/JmwZnyp8tw
— HDblog (@HDblog) December 3, 2025
اے ایس اے کے مطابق اگرچہ 2024 میں سپرڈری کی 64 فیصد مصنوعات میں ایسے مواد شامل تھے، لیکن اس کے باوجود پائیدار جیسا غیر مشروط لفظ مبہم اور غیر واضح تھا۔ ادارے نے کمپنی کی جانب سے اشتہار ہٹانے کے اقدام کو درست قرار دیا۔
دوسری جانب لاکوسٹ نے بچوں کے کپڑوں کے لیے گوگل کے اشتہار میں پائیدار کی اصطلاح استعمال کی تھی۔
کمپنی نے اعتراف کیا کہ ایسے ماحول دوست دعووں کی تصدیق مشکل ہوتی ہے اور شکایت ملتے ہی اشتہار واپس لے لیا گیا۔
لاکوسٹ نے وعدہ کیا کہ وہ مستقبل میں اس طرح کے غیر واضح ماحولیاتی دعووں سے پرہیز کرے گی۔
Ads for Nike, Superdry and Lacoste have been banned in the UK for exaggerating the environmental benefits of their products and misleading customers.https://t.co/PkMkQlnGlS
— STV News (@STVNews) December 3, 2025
اے ایس اے کی گرین پروجیکٹ ٹیم کے آپریشن منیجر جسٹن گریملی کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ لوگ ماحول کے لیے بہتر اور سبز انتخاب کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ مشتہرین ماحولیاتی دعووں میں مکمل شفافیت اختیار کریں۔ بڑے یا غیر ثابت شدہ دعوے انتہائی گمراہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان نئے فیصلوں سے برانڈز کو ایک واضح پیغام دیا جا رہا ہے کہ ماحول دوست دعووں کو مضبوط، قابلِ تصدیق اور سائنسی شواہد سے ثابت کرنا ضروری ہے۔







