برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، ایک مشترکہ بیان میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ ایک مشترکہ اقدام کے تحت روسی صدر ولادیمیر پوٹن پر مزید دباؤ ڈالا جائے گا اور روس کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے گا۔مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدام امریکہ کے قریبی تعاون سے اٹھایا جائے گا۔
واضح رہے کہ 2022 میں ماسکو کے یوکرین پر مکمل حملے کے آغاز کے بعد سے برطانیہ کی جانب سے عائد پابندیوں کے تحت روس کے 25 ارب پاؤنڈ سے زیادہ کے اثاثے منجمد کیے جا چکے ہیں۔ تاہم اب تک ان اثاثوں کے منافع اور ان پر جمع ہونے والے سود ہی کو یوکرین کی مدد کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
کیر اسٹارمر نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو بتایا کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی ’’جنگ کے خاتمے کے لیے غیر متحرک روسی خودمختار اثاثوں کی مکمل مالیت کے استعمال کی جانب پیش رفت کے لیے متحد ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے دنوں ماسکو پر دباؤ بڑھانے کے لیے مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
یہ اعلان گزشتہ ہفتے کوپن ہیگن میں ہونے والی یورپی رہنماؤں کی اس ملاقات کے بعد سامنے آیا، جس میں یوکرین کے لیے 140 ارب ڈالرز کے قرض کے لیے منجمد روسی اثاثوں کے استعمال پر غور کیا گیا۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق، گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی سیون اتحادیوں سے کہا تھا کہ وہ منجمد روسی اثاثوں کو استعمال کریں یا بصورتِ دیگر فیصلہ کریں۔
یورپی یونین میں منجمد روسی اثاثوں کی مجموعی مالیت کا تخمینہ تقریباً 211 ارب یورو (181 ارب پاؤنڈ) لگایا گیا ہے۔
دوسری جانب، روس نے جمعہ کو پورے یوکرین میں وسیع پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن کے نتیجے میں دارالحکومت کیف سمیت آٹھ علاقوں میں بجلی کا نظام متاثر ہوا۔
یوکرینی حکام کے مطابق، ان حملوں میں دو افراد ہلاک اور کم از کم 20 زخمی ہوئے۔
حملوں کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں صدر زیلنسکی نے کہا کہ بے رحمی کے ساتھ شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ضرورت خالی الفاظ کی نہیں بلکہ فیصلہ کن کارروائی کی ہے ، امریکہ، یورپ اور جی سیون کی طرف سے فضائی دفاعی نظام کی فراہمی اور پابندیوں کے مؤثر نفاذ کا وقت ہے۔
اسی روز زیلنسکی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کیر اسٹارمر پر زور دیں گے کہ وہ PURL پروگرام میں شامل ہوں، جس کے تحت نیٹو ممالک امریکہ سے ہتھیار خرید کر یوکرین کو فراہم کرتے ہیں۔
کیف کے لیے برطانیہ کی بھرپور حمایت کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برطانیہ کو واضح اشارہ دینا چاہیے کہ وہ اس نظام میں فعال طور پر حصہ لے گا اور ساتھ ہی روس پر مزید پابندیاں عائد کرے گا۔







