صحافی مرتضیٰ علی شاہ کے مطابق اپنے بیان میں بریگیڈیر (ر) راشد نصیر نے کہا کہ "یہ فیصلہ اُن تمام لوگوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے جو جھوٹ بول کر، نفرت پھیلا کر اور دوسروں کی کردار کشی کر کے سنسنی خیز ڈرامے بناتے ہیں ، یاد رکھیں، دنیا کے کسی بھی ملک کی عدالت آپ کا ساتھ نہیں دے گی، چاہے وہ پاکستان ہو یا بیرونِ ملک۔"
گلوکارہ نمرہ مہرا نے میوزک لیبل کمپنی پر مسلسل 2 سال تک دھوکا دینے اور گانوں کے رائٹس فروخت کرنے کا الزام عائد کردیا
بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر نے لندن ہائی کورٹ کے جج رچرڈ اسپیئر مین کے سی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے فیصلے کے شکر گزار ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے وکیل بیریسٹر ڈیوڈ لیمر اور اسٹون وائٹ سولیسٹرز کی ٹیم، عشرت سلطانہ اور صادیہ قریشی کی محنت اور لگن کو بھی سراہا۔
انہوں نے کہا کہ "یہ کامیابی صرف میری نہیں، بلکہ اُن تمام افراد کی جیت ہے جنہیں ایسے کرداروں نے بدنیتی سے نشانہ بنایا۔"
واضح رہے کہ لندن ہائی کورٹ نے بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کے خلاف عادل راجہ کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات کو جھوٹا، بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے فیصلہ بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کے حق میں سنایا ہے۔
سہیل آفریدی کے خلاف پروپیگنڈا قابل مذمت ہے، الیکشن کمیشن جعلی حکمرانوں کی ’’بی ٹیم‘‘کے طور پر کام کر رہا ہے،اسد قیصر
عدالتی فیصلے کے مطابق، جج نے عادل راجہ کو حکم دیا ہے کہ وہ بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کو ساڑھے تین لاکھ پاؤنڈ (تقریباً 14 کروڑ پاکستانی روپے) بطور ہرجانہ ادا کریں۔یہ مقدمہ جون 2022 میں دائر کیا گیا تھا۔







