نیلام گھر کرسٹیز کے مطابق چار انچ (دس سینٹی میٹر) لمبا یہ سرمائی فیبرج انڈا نہایت نفاست سے راک کرسٹل پر تراشا گیا ہے اور اسے نرم برفانی ڈیزائن میں 4,500 چھوٹے ہیروں کے ساتھ سجایا گیا ہے۔ اس کی تیاری میں پلاٹینم کا باریک کام بھی شامل ہے۔

خبررساں ادارے کے مطابق کرسٹیز کا کہنا ہے کہ یہ تیسری مرتبہ ہے کہ یہی انڈا فیبرج آئٹم کی عالمی مارکیٹ میں ریکارڈ قیمت قائم کر رہا ہے، جب کہ اس سے قبل 2007 میں کرسٹیز کی ہی ایک نیلامی میں روتھسچلڈ خاندان کے لیے تیار کردہ ایک انڈا 8.9 ملین پاؤنڈ میں فروخت ہوا تھا۔

یاد رہے کہ فیبرج کاریگر پیٹر کارل فیبرج اور ان کی کمپنی نے 1885 سے 1917 تک روسی شاہی خاندان کے لیے 50 سے زائد خصوصی انڈے تیار کیے۔ ہر انڈا منفرد ہوتا تھا اور اس میں کسی نہ کسی صورت میں ایک چھپی ہوئی چیز موجود ہوتی تھی۔

1913 میں زار نکولس دوم نے یہ سرمائی انڈا ایسٹر کے موقع پر اپنی والدہ ڈوگر ایمپریس ماریا فیوڈورونا کو تحفے میں دیا تھا۔ انڈا کھولنے پر اس میں سے کوارٹز کے پھولوں سے بنی ایک نایاب چھوٹی سی ٹوکری برآمد ہوتی ہے جو موسم بہار کی علامت ہے۔

یہ شاہکار ان دو امپیریل انڈوں میں سے ایک ہے جو خاتون ڈیزائنر الما پِہل نے تخلیق کیے۔ ان کا دوسرا انڈا اس وقت برطانیہ کے شاہی خاندان کی ملکیت ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ سرمائی انڈا تقریباً ایک صدی قبل کمیونسٹ حکام کی جانب سے شاہی ذخائر کی فروخت کے دوران صرف £450 سے بھی کم میں ایک لندن ڈیلر نے خرید لیا تھا۔

 بعد ازاں یہ کئی ہاتھوں سے گزرتا رہا اور 1994 اور 2002 میں کرسٹیز کے ذریعے ہونے والی نیلامیوں میں بھی ریکارڈ قیمت پر فروخت ہوا۔

کرسٹیز روسی آرٹ ڈپارٹمنٹ کی سربراہ مارگو اوگنیسیئن نے اسے آرائشی فنون کی مونا لیزا قرار دیا ہے اور کہا کہ یہ فیبرج کی کاریگری اور ڈیزائن کا بے مثال شاہکار ہے۔

کرسٹیز کے مطابق یہ انڈا امپیریل خاندان کے لیے تیار کیے گئے سب سے اصل اور فنکارانہ طور پر اختراعی ایسٹر انڈوں میں سے ایک ہے، جو موسم سرما سے بہار کی آمد اور احیائے نو کی علامت ہے۔

دنیا بھر میں 43 امپیریل فیبرج انڈے آج بھی محفوظ ہیں، جن میں سے زیادہ تر عجائب گھروں میں رکھے گئے ہیں۔